ایئر انڈیا ٹربولنس: پرواز کے دوران آدھے گھنٹے کے لیے سو گیا تھا پائلٹ!

Wait 5 sec.

ٹربولنس والی ایئر انڈیا کی پھوکیت-دہلی فلائٹ (اے 320) کے حوالے سے ایک نئی جانکاری سامنے آئی ہے۔ میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس پرواز کا جو پائلٹ نشے میں دھت ہو کر طیارہ اڑا رہا تھا، وہ پرواز کے دوران آدھے گھنٹے کے لیے سو گیا تھا۔ پوچھ تاچھ میں اس نے اس معاملے کی تحقیقات کرنے والوں کو بتایا کہ ذاتی وجوہات اور تناؤ کی وجہ سے اسے سونے میں پریشانی ہو رہی تھی۔ اس وجہ سے وہ اپنے فیملی ڈاکٹر کے مشورے پر نیند کی گولی کھاتا تھا۔ اس نے پرواز کے دوران صرف 35-30 منٹ کی نیند لی تھی۔ پائلٹ نے یہ بھی بتایا ہے کہ اسے کافی عرصے سے نیند نہ آنے کی شکایت ہے۔ فیملی ڈاکٹر کے مشورے پر وہ نیند کی گولی لیتا تھا۔ میڈیا رپورٹس میں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ پائلٹ نے عملہ کے رکن سے سگریٹ نوشی کرنے کے لیے لائٹر مانگا تھا۔اس سے قبل بھی ٹربولنس واقعہ کو لے کر مختلف انکشافات سامنے آ چکے ہیں۔ پہلے یہ خبر آئی کہ پائلٹ کا ڈوپ ٹیسٹ پازیٹو پایا گیا ہے، پھر یہ کہا گیا کہ پائلٹ نشے میں دھت تھا، یعنی گانجہ پی کر طیارہ اڑا رہا تھا۔ اس کے بعد جو خبر آئی اس میں یہ بتایا گیا کہ طیارے میں کئی طرح کی خامیاں تھیں۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے ذرائع کے حوالہ سے بتایا کہ طیارے کا ہائیڈرولک سسٹم کم از کم 3 بار خراب ہوا تھا۔ اس کے علاوہ آٹو پائلٹ بھی بند ہو گیا تھا۔ اس کے فوراً بعد کو پائلٹ نے خود ہاتھ سے طیارے کا کنٹرول سنبھال لیا۔ایئر انڈیا ٹربولنس معاملہ کی تحقیقات کے دوران کچھ اہم انکشافات، پوسٹ فلائٹ رپورٹ میں 80 منٹ کے اندر 13 خامیاں ظاہر!رپورٹ کے مطابق طیارے کے کئی انڈیکیٹر سوئچ کچھ دیر کے لیے بند ہو گئے تھے۔ اس دوران طیارے کو ہوا میں جھٹکے بھی لگے۔ اس کے بعد طیارہ اچانک تقریباً 300 فٹ نیچے آ گیا۔ گزشتہ 4 اگست کو پیش آنے والے اس واقعے (ٹربولنس) میں 17 افراد زخمی ہو گئے تھے۔ ان میں کئی مسافر اور عملہ کے اراکین شامل تھے۔ اس واقعہ کے بعد کمپنی نے دونوں پائلٹس کو ڈیوٹی سے ہٹا دیا اور اے اے آئی بی کی جانب سے معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔