پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی، اسپیکر کی چائے پارٹی کا اپوزیشن نے کیا بائیکاٹ

Wait 5 sec.

پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس آج یعنی جمعرات کے روز اختتام پذیر ہو گیا۔ دونوں ایوانوں کی  کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ اس کے بعد لوک سبھا اسپیکر کی جانب سے چائے پارٹی کا اہتمام کیا گیا، جس کا اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور ملکارجن کھڑگے سمیت کئی اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے بائیکاٹ کیا۔ وزیر اعظم مودی، امت شاہ، راجناتھ سنگھ سمیت این ڈی اے کے کئی لیڈران اس چائے پارٹی میں موجود تھے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ڈی ایم کے کی لیڈر کنی موزی اسپیکر کی چائے پارٹی میں شامل ہوئیں۔کانگریس ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیکر نے حسب روایت لوک سبھا میں اپنی تقریر نہیں کی، اور نہ ہی یہ بتایا کہ پارلیمنٹ کا کام کاج کیسا رہا، اس لیے حزب اختلاف نے ان کی روایتی چائے پارٹی کا بائیکاٹ کیا ہے۔ اس سے قبل چائے پارٹی میں پرینکا گاندھی کو بھیجنے کا پروگرام تھا۔ سونیا گاندھی اور ملکارجن کھڑگے بھی چائے پارٹی میں شرکت کرنے والے تھے۔ پارلیمنٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہونے کے بعد لوک سبھا اسپیکر کی جانب سے یہ میٹنگ رکھی جاتی ہے۔ اس کا مقصد حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان باہمی تلخی کو کم کرنا اور خوشگوار ماحول قائم کرنا ہوتا ہے۔اس چائے پارٹی کا جب اپوزیشن نے بائیکاٹ کیا، تو ڈی ایم کے کی طرف سے کنی موزی کا اس تقریب میں شرکت کئی لوگوں کو حیران کر رہا ہے۔ سیاسی ماہرین کنی موزی کی اس چائے پارٹی میں شرکت کو ایک بڑا سیاسی قدم بتا رہے ہیں۔ کانگریس نے تمل ناڈو میں جب ٹی وی کے سے ہاتھ ملایا، تبھی سے ڈی ایم کے نے کانگریس سے دوری بنانی شروع کر دی ہے۔ اب اس کا فائدہ حکمراں جماعت اٹھانا چاہتی ہے، اسی لیے چائے پارٹی میں کنی موزی کی تصویر پی ایم مودی کے ساتھ سامنے آنے پر کئی طرح کے سوال اٹھنے لگے ہیں۔ سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا جنوبی ہندوستان میں نمائندگی کی لڑائی کو آگے بڑھاتے ہوئے ڈی ایم کے حد بندی معاملہ پر مودی حکومت کی حمایت کرے گی؟ کنی موزی کا چائے پارٹی میں شامل ہونا یہ اشارہ ضرور کرتا ہے کہ ڈی ایم کے بھلے ہی این ڈی اے کے ساتھ نہیں ہے، لیکن یہ مکمل طور پر حد بندی کے خلاف بھی نہیں ہے۔دراصل ڈی ایم کے چاہتی ہے کہ حد بندی منصفانہ طریقے سے عمل میں آئے، تاکہ تمل ناڈو کی آواز پارلیمنٹ میں کمزور نہ ہو۔ ڈی ایم کے کو پتہ ہے کہ صرف پارلیمنٹ کے اندر ہنگامہ کرنے یا کانگریس کے ساتھ بائیکاٹ کرنے سے تمل ناڈو کے مفادات کی حفاظت نہیں ہوگی۔ اس کے لیے برسراقتدار جماعت اور لوک سبھا اسپیکر کے ساتھ گفتگو کا راستہ کھلا رکھنا بے حد ضروری ہے۔ اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ جب حد بندی بل پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا تو ریاست کے موقف کو مضبوطی کے ساتھ سامنے رکھا جا سکے گا۔