ٹرمپ کی پالیسیوں سے امریکی محکمہ خارجہ کا روایتی ڈھانچہ متاثر، کیریئر سفارت کاروں میں تشویش

Wait 5 sec.

واشنگٹن (13 اگست 2026): صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی پالیسیوں کے باعث امریکی محکمۂ خارجہ کے روایتی سفارتی ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، جب کہ کیریئر سفارت کاروں میں ادارے کے مستقبل اور امریکی خارجہ پالیسی کی سمت کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے۔امریکی محکمۂ خارجہ میں موجود بعض سینئر حکام اور پرانے سفارتی ذرائع کے ساتھ ہونے والی غیر رسمی گفتگو سے یہ تاثر سامنے آیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ امریکی سفارت کاری کے بنیادی ڈھانچے میں ایک جارحانہ اور بنیادی تبدیلی کی جانب بڑھ رہی ہے۔صدر ٹرمپ طویل عرصے سے محکمۂ خارجہ کو ایسے ادارے کے طور پر تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں جس میں ان کے بقول لبرل بیوروکریسی کا اثر رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے محکمۂ خارجہ میں بڑے پیمانے پر تنظیم نو شروع کی، افرادی قوت میں نمایاں کمی کی، متعدد اہم سفیروں کے عہدے خالی رکھے اور کیریئر سفارت کاروں کے فیصلہ سازی میں کردار کو محدود کیا۔روایتی کیریئر سفارت کاری کی بہ جائے صدر ٹرمپ نے اپنے قریبی اور بااعتماد ساتھیوں پر بھی انحصار کیا ہے۔ ان میں ان کے داماد جیرڈ کشنر اور قریبی ساتھی سٹیو وٹکوف شامل ہیں، جنھیں ایران کے ساتھ مذاکرات اور یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششوں سمیت اہم سفارتی معاملات میں کردار دیا گیا۔ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیویٹ جلد عہدہ چھوڑ دیں گیمحکمۂ خارجہ کے کیریئر فارن سروس افسران میں اس حوالے سے بھی تشویش پائی جاتی ہے کہ انتظامیہ کی پالیسیوں سے اختلاف کرنے والے افسران کو ملازمت اور پیشہ ورانہ مستقبل کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ بالخصوص ایران کے ساتھ جنگ اور دیگر حساس خارجہ پالیسی معاملات پر اختلافِ رائے کے حوالے سے یہ خدشات زیادہ نمایاں ہیں۔دوسری جانب واشنگٹن میں موجود غیر ملکی سفارت کار بھی محکمۂ خارجہ کی بہ جائے وائٹ ہاؤس کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔ سفارتی حلقوں کے مطابق خارجہ پالیسی کے اہم فیصلوں میں وائٹ ہاؤس کے کردار میں اضافے کے باعث غیر ملکی حکومتیں براہ راست وائٹ ہاؤس سے روابط کو ترجیح دے رہی ہیں۔کیریئر سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کے نتیجے میں امریکی حکومت دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات مؤثر انداز میں سنبھالنے کے لیے پہلے کے مقابلے میں کم ادارہ جاتی صلاحیت رکھتی ہے۔محکمۂ خارجہ اور میڈیا کے تعلقات میں بھی نمایاں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ سابقہ امریکی انتظامیہ کے ادوار میں محکمۂ خارجہ میں روزانہ پریس بریفنگ معمول کا حصہ تھی، تاہم موجودہ دور میں پریس بریفنگ کے نظام میں نمایاں تعطل آیا ہے۔ محکمۂ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس کے عہدہ چھوڑنے کے بعد ترجمان کی مستقل تقرری میں بھی تاخیر رہی، جب کہ صحافیوں کے سوالات کے جوابات میں بھی طویل تاخیر کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔محکمۂ خارجہ کے بعض حلقوں کے مطابق موجودہ صورت حال سے یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ خارجہ پالیسی کے معاملات میں روایتی ادارہ جاتی جواب دہی اور محکمۂ خارجہ کے کردار کو محدود کر رہی ہے۔ادھر ڈیموکریٹس کے درمیان بھی یہ بحث جاری ہے کہ ٹرمپ دور کے بعد امریکی خارجہ پالیسی اور محکمۂ خارجہ کو کس طرح دوبارہ روایتی سفارتی اصولوں اور ادارہ جاتی نظام پر بحال کیا جائے۔ ماہرین کے مطابق اگر مستقبل میں ڈیموکریٹس دوبارہ وائٹ ہاؤس حاصل کرتے ہیں تو محکمۂ خارجہ کے روایتی ڈھانچے، کیریئر سفارت کاری اور ادارہ جاتی طریقۂ کار کی مکمل بحالی میں کئی برس لگ سکتے ہیں۔