عمان: روسی خام تیل 2 ہزار مربع کلو میٹر سے زائد سمندری علاقے میں پھیل چکا ہے

Wait 5 sec.

مسقط (13 اگست 2026): عمان کے قریب پھنسا روسی خام تیل سے لدا ٹینکر عمان کے ساحل تک پہنچ گیا ہے، تاہم ٹینکر سے تیل رسنے سے راس مدرکہ میں 40 کلو میٹر تک ساحلی پٹی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔جمعرات کو خلیجِ عمان اور بحیرۂ احمر میں بحری جہازوں پر ہونے والے حالیہ مہلک حملوں اور عمان کے قریب پھیلنے والے تیل کے اخراج کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے، جب کہ تیل کا اخراج مسلسل پھیلتا جا رہا ہے۔روسی خام تیل 2 ہزار مربع کلومیٹر سے زائد سمندری علاقے میں پھیل چکا ہے، اور ٹینکر ٹوٹنے کی صورت میں 8 لاکھ بیرل روسی خام تیل سمندر میں بہہ سکتا ہے۔روئٹرز کے مطابق عمان کے ساحلی علاقے پر ایک بڑے پیمانے پر ہونے والے تیل کے اخراج کے اثرات پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔ یہ اخراج ایک ایسے ٹینکر سے ہوا جو 30 جون کو ساحل پر آ کر پھنس گیا تھا۔ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیویٹ جلد عہدہ چھوڑ دیں گیاس ٹینکر میں ایک اندازے کے مطابق روسی تیل کے آٹھ لاکھ بیرل موجود تھے اور وہ بین الاقوامی پابندیوں کی زد میں ہے۔ یہ روسی ٹینکر 2 ماہ سے زیادہ عرصے سے عمان کے ایک محفوظ سمندری قدرتی علاقے کے قریب خام تیل خارج کر رہا ہے۔ یہ علاقہ دنیا کی نایاب ترین وہیل مچھلیوں میں سے بعض کا مسکن ہے۔ہالانیات جزائر نیچر ریزرو گزشتہ ہی سال عمان کے شاہی فرمان کے ذریعے قائم کیا گیا تھا۔ یہ بحیرۂ عرب میں پائی جانے والی تقریباً 80 ہمپ بیک وہیلز کی آبادی کے لیے انتہائی اہم مسکن ہے۔ یہ دنیا میں ہمپ بیک وہیلز کی سب سے چھوٹی اور سب سے زیادہ خطرے سے دوچار آبادی ہے، جو تقریباً 70,000 سال سے دوسری آبادیوں سے الگ تھلگ ہے۔ ان جزائر کو یونیسکو کی جانب سے تسلیم کیے جانے کے لیے بھی تجویز کیا گیا ہے، جس کا مقصد کچھوؤں کے انڈے دینے والے ساحلوں، مرجانی چٹانوں اور پرندوں کا تحفظ ہے۔خطرات اس لیے مزید بڑھ گئے ہیں کہ جزیرہ نما عرب کے گرد سمندر میں جنگ کی شدت کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہے اور یہ تیل کا اخراج عین اسی راستے میں واقع ہے۔