تہران (13 اگست 2026): ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ہم ساحلی آلودگی پر خاموش نہیں رہ سکتے، آبنائے ہرمز سے فائدہ اٹھانے والے فریق ماحولیاتی نقصان کا ازالہ کریں۔اسماعیل بقائی نے کہا گزشتہ چند روز کے دوران ایسی ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جن میں قشم جزیرے کے ساحلوں پر تیل کی آلودگی دکھائی گئی ہے۔ یہ آلودگی خلیجِ فارس سے بہہ کر ساحل کی جانب پہنچی، اور ابتدائی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا ماخذ ایک غیر ملکی جہاز ہے۔انھوں نے کہا تین ساحلی مقامات اور سمندر کی سطح کے بعض حصوں میں آلودگی کی موجودگی دستاویزی طور پر ریکارڈ کی گئی ہے، بحری سرگرمیوں کے ماحولیاتی اثرات کی ذمہ داری طے ہونی چاہیے۔ترجمان نے ایکس پر لکھا کہ یہ واقعہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران خلیجِ فارس اور بحیرۂ عمان کے پانیوں، نیز خطے کے سمندری ماحولیاتی نظام کو پہنچنے والی وسیع پیمانے کی آلودگی کی صرف ایک نمایاں مثال ہے، جس نے ایران کے ساحلی علاقوں کو کھربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے۔Why must addressing the environmental condition of the Strait of Hormuz and its surrounding waters form an integral part of any future administration of the Strait?In recent days, videos have circulated showing oil pollution along the shores of Qeshm Island. This pollution… pic.twitter.com/UpSWlqePvd— Esmaeil Baqaei (@IRIMFA_SPOX) August 12, 2026اسماعیل بقائی نے سوال اٹھایا کہ ان نقصانات کی تلافی کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ کیا ان ممالک پر جو ہمارے خطے سے برآمد ہونے والی سستی توانائی استعمال کرتے ہیں، یا بحری جہازوں کے بیمہ کنندگان پر، یا ان جارحین اور ان کے شراکت داروں پر، جنھوں نے خلیجِ فارس اور بحیرۂ عمان کو فوجی کارروائیوں اور انتہائی تباہ کن ہتھیاروں کی آزمائش کے لیے ایک میدان میں تبدیل کر دیا ہے؟عمان: روسی خام تیل 2 ہزار مربع کلو میٹر سے زائد سمندری علاقے میں پھیل چکا ہےانھوں نے کہا خلیجِ فارس اور بحیرۂ عمان کے ساتھ سب سے طویل ساحلی پٹی رکھنے والے ملک کی حیثیت سے ایران اس صورتِ حال سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ آبنائے ہرمز کے راستے ہونے والی تجارتی بحری نقل و حمل سے فائدہ اٹھانے والے ہر فریق پر خلیجِ فارس اور بحیرۂ عمان کو پہنچنے والے ماحولیاتی نقصان کے ازالے کی ’قانونی اور اخلاقی دونوں ذمہ داری‘ عائد ہوتی ہے۔