صبح سویرے لداخ میں آئے زلزلہ نے لوگوں کو دہشت میں ڈالا، ریکٹر اسکیل پر شدت 5.5 درج

Wait 5 sec.

کچھ دنوں قبل ہی کولمبیا میں آئے 7.4 شدت کے زلزلہ نے زبردست تباہی مچائی، اور اب آج صبح سویرے ہندوستان کے لداخ میں زلزلہ نے لوگوں کو خوف و دہشت میں مبتلا کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق علی الصبح لداخ کے لیہہ میں زلزلہ کا شدید جھٹکا محسوس کیا گیا۔ ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت 5.5 ریکارڈ کی گئی ہے۔ نیشنل سینٹر فار سسمولوجی کے مطابق صبح 6:05 بجے زلزلہ آیا تھا، جس کا مرکز 10 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔#BreakingNews | An earthquake measuring 5.5 magnitude on Richter scale jolted Ladakh's Leh early morning on Thursday, August 13.The National Center for Seismology said the earthquake struck at 6:05 am at a depth of 10km#Earthquake #Ladakh #Leh pic.twitter.com/64QnpciwXX— DD News (@DDNewslive) August 13, 2026جس وقت لیہہ میں زمین ڈولی، لوگوں کے سو کر اٹھنے کا وقت تھا۔ کئی لوگ دفتر نکلنے کی تیاریوں میں مصروف تھے، اور پھر جیسے ہی زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوئے، سبھی فوراً گھروں سے باہر نکل آئے۔ چند ہی منٹوں میں ہر جگہ افراتفری کا ماحول دیکھنے کو ملا۔ راحت کی بات یہ ہے کہ ابھی تک کسی جانی و مالی نقصان کی کوئی خبر نہیں ہے۔اس سے قبل مہاراشٹر کے پال گھر میں پیر کی شب تقریباً ایک گھنٹے کے اندر 2 بار زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔ دونوں جھٹکوں کی شدت 3.4 تھی۔ پہلا جھٹکا رات 10:04 بجے آیا تھا۔ اس کے تقریباً 56 منٹ بعد 11 بجے دوسرا جھٹکا محسوس کیا گیا تھا۔ مسلسل 2 جھٹکوں سے لوگ خوف زدہ ہو گئے تھے اور کئی لوگ گھروں سے باہر بھی نکل آئے تھے۔ حالانکہ کچھ ہی دیر بعد سب کچھ معمول پر آ گیا تھا۔Earthquake of magnitude 5.5 hit Leh, Ladakh at 6.05 AM: National Center for Seismology pic.twitter.com/RUV7rgyO2z— Kashmir Independent Media Service - KIMS (@KIMSKashmir) August 13, 2026قابل ذکر ہے کہ زلزلہ آنے کی بنیادی وجہ زمین کے اندر موجود ٹیکٹونک پلیٹوں کا آپس میں ٹکرانا یا کھسکنا ہے۔ سائنسی تجزیوں کے مطابق، ہماری زمین کی بالائی سطح بنیادی طور پر 7 بڑی اور کئی چھوٹی ٹیکٹونک پلیٹوں سے مل کر بنی ہے۔ یہ پلیٹیں زمین کے اندر موجود مائع لاوے کے اوپر انتہائی سست رفتاری سے تیرتی رہتی ہیں۔ یہ پلیٹیں ہر سال اپنی جگہ سے چند ملی میٹر کھسکتی ہیں۔اس دوران جب یہ آپس میں ٹکراتی ہیں تو ان کے کناروں پر شدید دباؤ اور رگڑ پیدا ہوتی ہے۔ جب یہ دباؤ ایک حد سے زیادہ ہو جاتا ہے تو اندر موجود چٹانیں اچانک ٹوٹ جاتی ہیں۔ اس سے برسوں سے جمع بھاری توانائی اچانک لہروں کی شکل میں باہر نکلتی ہے۔ یہی توانائی جب لہروں کی صورت میں زمین کی سطح تک پہنچتی ہے تو ہمیں زمین ہلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے، جسے ہم زلزلہ کہتے ہیں۔ 5.0 سے 5.9 شدت والے زلزلوں کو خطرناک جھٹکا سمجھا جاتا ہے۔ اس میں کچے مکانات گر سکتے ہیں۔ بھاری فرنیچر اپنی جگہ سے ہل جاتا ہے اور مضبوط مکانات کی دیواروں میں دراڑیں پڑ سکتی ہیں۔