لندن : یورپ میں گرمی کی پانچویں لہر نے خطرے کی گھنٹی بجا دی، لندن سے فرانس تک شدید گرمی نے جنگلات میں آگ کا خطرہ بڑھا دیا۔یورپ رواں موسمِ گرما کی پانچویں شدید گرمی کی لہر کی لپیٹ میں ہے، لندن میں درجہ حرارت 37 ڈگری تک پہنچنے کا امکان ہے، جس کے جمعرات 13 اگست کو عروج پر پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔برطانیہ سمیت یورپ کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت میں نمایاں اضافے کے باعث صحت، توانائی اور جنگلات میں آگ کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔برطانوی محکمہ موسمیات کے مطابق جنوبی انگلینڈ، بالخصوص لندن میں جمعرات کو درجہ حرارت 37ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔ماہر موسمیات کے مطابق یہ درجہ حرارت رواں سال یا اگست کے دوران بلند ترین دن کے درجہ حرارت کا نیا ریکارڈ بھی قائم کرسکتا ہے۔لندن سے شیفیلڈ تک وسطی انگلینڈ کے علاقوں کے لیے امبر ہیٹ الرٹ جاری کیا گیا ہے، حکام نے شدید گرمی کے باعث معمولات زندگی اور صنعتی سرگرمیوں میں خلل پڑنے کے خدشات کا بھی اظہار کیا ہے۔شدید گرمی اور کم بارش کے باعث برطانیہ میں خشک سالی کی صورتحال مزید سنگین ہوگئی ہے جبکہ جنگلات اور گھاس کے میدانوں میں آگ لگنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے، نیو فاریسٹ میں کئی روز تک جاری رہنے والی آگ نے بھی صورتحال کی سنگینی واضح کردی ہے۔لندن کے میئر صادق خان نے کہا ہے کہ موسمیاتی بحران اب دور کی بات نہیں بلکہ براہ راست شہریوں کی زندگیوں اور ماحول کو متاثر کر رہا ہے۔ان کے مطابق ریکارڈ درجہ حرارت کے باعث سرسبز علاقے خشک ہوکر آگ کی زد میں آرہے ہیں، جس سے جنگلات میں خطرناک آتش زدگی اور اچانک سیلاب کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ شدید گرمی اور مسلسل دھوپ سے خشک سالی کی صورتحال بھی سنگین ہوسکتی ہے، گرم موسم کے باعث مٹی سے نمی کےبخارات میں اضافہ ہورہا ہے، مسلسل گرمی اور بارش کی کمی سے پانی کے ذخائر میں مزید کمی ہوسکتی ہے۔