نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے جمعرات کو رچناتمک کانگریس کے قومی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی پر سخت سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے ممالک کے رہنماؤں کو ’گلے لگانا‘ خارجہ پالیسی نہیں ہے اور ہندوستان کی خارجہ پالیسی قومی مفاد سے چلنی چاہیے۔راہل گاندھی نے کہا کہ ہندوستان کے وزیر اعظم کو غیر ملکی رہنماؤں سے دوستی کرنے کے بجائے ملک کے مفاد میں کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں قومی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے اور عالمی سطح پر پیدا ہونے والے مواقع کا استعمال ہندوستان کے مفادات کے تحفظ کے لیے کیا جانا چاہیے۔ایران سے متعلق تنازعہ کا حوالہ دیتے ہوئے راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ اگر ہندوستانی قیادت نے اس موقع کا فائدہ اٹھایا ہوتا تو ہندوستان ثالثی کا کردار ادا کر سکتا تھا۔ ان کے مطابق اس کے بجائے پاکستان نے اس معاملے میں قدم بڑھایا اور وزیر اعظم مودی یہ سوچتے رہ گئے کہ ایسا کیسے ہو گیا۔ راہل گاندھی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہیں وزیر اعظم کے دفتر کے اندر سے بھی معلومات مل رہی ہیں۔چین کے معاملے پر راہل گاندھی نے حکومت پر مزید سخت حملہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چین نے اروناچل پردیش میں ہندوستانی فوج کی گشت پر روک لگا دی ہے۔ ان کے مطابق اس معاملے پر وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے دکھائے جانے والے سخت تیور کمزور پڑ گئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت نے اخبارات اور میڈیا اداروں کو فون کرکے اس خبر کو شائع یا نشر نہ کرنے کے لیے کہا۔ وادی گلوان میں ہندوستان اور چین کے درمیان تنازعہ کا ذکر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے وزیر اعظم کے اس بیان پر سوال اٹھایا کہ چین نے ہندوستان کی ایک انچ زمین بھی نہیں لی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس فوج کا کہنا تھا کہ زمین پر قبضہ کیا گیا ہے۔راہل گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم کے اس بیان سے چین کو مذاکرات کے دوران ہندوستان کے موقف کو کمزور کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ چینی فریق نے گفتگو کے دوران یہ مؤقف اختیار کیا کہ ہندوستان غلط ہے، کیونکہ خود ہندوستان کے وزیر اعظم کہہ چکے ہیں کہ کوئی زمین نہیں گئی۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کو برباد کر دیا اور ملک کو اندر سے کمزور کیا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اقتدار میں موجود لوگوں کو نہ تو ہندوستان کی روایات کی مناسب سمجھ ہے اور نہ ہی وہ ان کا احترام کرتے ہیں۔کانگریس رہنما نے ایک بار پھر ہندوستان کے ماضی اور حال کے درمیان فرق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تین ہزار سال پرانے ہندوستان کی بات کرتی ہے، لیکن جدید ہندوستان کی حقیقت کو نہیں سمجھتی۔ ان کے مطابق موجودہ ہندوستان کو سمجھنے کے لیے لوگوں کو بولنے کا موقع دینا ضروری ہے، لیکن حکومت ایسا کرنے سے انکار کر رہی ہے۔راہل گاندھی نے وزیر اعظم کی جانب سے پریس کانفرنس نہ کیے جانے پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے انہیں لگتا تھا کہ اس کے پیچھے کوئی حکمت عملی ہوگی، لیکن پانچ منٹ ایک کمرے میں بیٹھنے کے بعد انہیں محسوس ہوا کہ معاملہ اتنا پیچیدہ نہیں ہے۔رچناتمک کانگریس کے قومی کنونشن کے دوسرے دن راہل گاندھی کا یہ خطاب ہوا۔ دو روزہ کنونشن میں تنظیم، عوام سے رابطے اور آئندہ حکمت عملی سمیت مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ اختتام قومی ترانے کے ساتھ ہوا۔