چھاتروں کی گونج: پریاگ راج سے اٹھنے والی طلبہ کی آواز پورے ملک میں گونجے گی، رندیپ سنگھ سرجے والا

Wait 5 sec.

نئی دہلی: پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ نے وزیر داخلہ امت شاہ کی ایوان میں عدم موجودگی پر سخت اعتراض کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ وہ اپوزیشن کے سوالوں کا سامنا کرنے سے گریز کر رہے ہیں، اسی لیے پارلیمنٹ میں نہیں آ رہے۔ کانگریس نے یہ بھی کہا کہ راہل گاندھی کے پریاگ راج میں مجوزہ پروگرام کو اجازت ملنا جمہوری اقدار کی فتح ہے۔کانگریس کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا رکن رندیپ سنگھ سرجے والا نے کہا کہ پریاگ راج ملک کی کرم بھومی ہے اور گاندھی خاندان و کانگریس کا اس شہر سے تاریخی اور جذباتی تعلق رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک میں نوجوانوں اور طلبہ کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔سرجے والا کے مطابق اگر کوئی طالب علم جنتر منتر پر احتجاج کرتا ہے یا واٹس ایپ گروپ میں طلبہ کی حمایت میں اپنی رائے ظاہر کرتا ہے تو اس کے خلاف مقدمات درج کیے جاتے ہیں اور بار بار پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا جاتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پریاگ راج سے اٹھنے والی طلبہ کی آواز صرف اتر پردیش ہی نہیں بلکہ پورے ملک کی سیاست اور سماجی ماحول پر اثر انداز ہوگی۔لوک سبھا رکن منیکم ٹیگور نے خواتین کے لیے ریزرویشن کے قانون کے نفاذ میں تاخیر پر حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ 2023 میں ناری شکتی وندن قانون منظور ہونے کے بعد پورے ملک میں اس کا خیرمقدم کیا گیا تھا اور وزیر اعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ میں مٹھائیاں تقسیم کر کے اس کا جشن بھی منایا تھا، لیکن اب تک اس قانون پر عمل درآمد کی سمت میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ مرکزی وزیر کرن رجیجو اس معاملے پر مختلف بیانات کیوں دے رہے ہیں۔کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ملو روی نے راہل گاندھی کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ طلبہ کے مفادات کی بات کرتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق راہل گاندھی کا واضح نظریہ ہے کہ خواہ کسی بھی جماعت کی حکومت ہو، اسے طلبہ کے مسائل سننے اور ان کا حل نکالنے کی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی نے ہمیشہ انصاف اور غیر جانبدار سیاست کی حمایت کی ہے۔آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے نوجوانوں سے متعلق بیان پر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ سکھجیندر سنگھ رندھاوا نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر موہن بھاگوت واقعی نوجوانوں کی فکر کرتے ہیں تو انہیں وزیر داخلہ امت شاہ سے کہنا چاہیے کہ وہ پارلیمنٹ میں آکر اپوزیشن کے سوالات کا جواب دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو پارلیمنٹ کے تئیں اپنی آئینی جوابدہی پوری کرنی چاہیے۔