کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے اتوار کو نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) سے اس اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی رپورٹ کو عام کرنے کی اپیل کی، جسے ٹریبونل نے ’ماحولیاتی طور پر تباہ کن‘ گریٹ نیکوبار آئی لینڈ پروجیکٹ کو دی گئی ماحولیاتی منظوریوں کا جائزہ لینے کے لیے تشکیل دینے کا حکم دیا تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ رپورٹ عام ہونے سے یہ واضح ہو جائے گا کہ اس میں شدید خامیاں ہیں۔ رمیش نے امید ظاہر کی کہ مختلف ٹریبونل اور خاص طور پر این جی ٹی اپنی آواز اور اختیارات دوبارہ حاصل کریں گے اور اپنی قانونی ذمہ داریوں پر ان کی روح کے مطابق عمل کریں گے۔Tomorrow the Lok Sabha is scheduled to take up The Tribunal Reforms Bill, 2026 that may well chart a new future for 16 semi-judicial Tribunals set up over the years, including the very important National Green Tribunal (NGT) that came into being in October 2010 by an Act of… pic.twitter.com/CL04ELJhJ3— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) August 9, 2026کانگریس لیڈر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’لوک سبھا میں کل ٹریبونل ریفارمز بل، 2026 پر بحث ہونے والی ہے۔ یہ بل گزشتہ برسوں کے دوران تشکیل دیے گئے 16 نیم عدالتی ٹریبونلز کے لیے ایک نئی سمت طے کر سکتا ہے۔ ان میں انتہائی اہم نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) بھی شامل ہے، جس کا قیام اکتوبر 2010 میں پارلیمنٹ کے ایک قانون کے تحت عمل میں آیا تھا۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’اس بل کا مقصد 19 نومبر 2025 کے تاریخی ’مدراس بار ایسوسی ایشن‘ فیصلے میں دی گئی سپریم کورٹ کی ہدایات کو نافذ کرنا ہے۔ اس فیصلے میں ٹریبونل ریفارمز ایکٹ، 2021 کی اہم دفعات کو کالعدم قرار دے دیا گیا تھا اور تقرریوں کے لیے ایک آزاد نیشنل ٹریبونل کمیشن تشکیل دینے کا حکم دیا گیا تھا۔‘‘’یہ صرف مودی کے دوست اڈانی کے لیے ہے‘، کانگریس نے گریٹ نکوبار پروجیکٹ کے خلاف پھر اٹھائی آوازاپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں جے رام رمیش لکھتے ہیں کہ ’’چونکہ ایک آزاد این جی ٹی کا وجود ہی داؤ پر لگا ہوا تھا، اس لیے میں بھی سپریم کورٹ میں 2021 کے قانون کو چیلنج کرنے والوں میں شامل تھا۔ اس سے پہلے میں نے فنانس ایکٹ، 2017 کی ان دفعات کو بھی چیلنج کیا تھا جن کے ذریعے ٹریبونل کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ان میں ترمیمات کو مَنی بل کا حصہ قرار دینے کا راستہ اختیار کیا گیا تھا، تاکہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں، خاص طور پر راجیہ سبھا میں ان کی مکمل اور مناسب قانون سازی کی جانچ سے بچا جا سکے۔‘‘ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’’وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت کی طرف سے مدلل تنقید اور عدالت کے پچھلے فیصلوں پر توجہ نہ دیے جانے کی وجہ سے کافی نقصان ہو چکا ہے۔‘‘کانگریس کے جنرل سکریٹری اپنی پوسٹ میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ این جی ٹی بنیادی نشانہ تھا کیونکہ مودی حکومت کو اس کا کام کاج تکلیف دہ لگ رہا تھا۔ حکومت نے 2021 کے قانون کا سپریم کورٹ تک پوری مضبوطی سے دفاع کیا، لیکن اب وہ انہی کئی اصلاحات کو نافذ کرنے پر مجبور ہوئی ہے جن کی اس نے سخت مخالفت کی تھی اور جن کی شدید ضرورت تھی۔‘‘ ان کے مطابق آخر کار تصادم کی جگہ مفاہمت نے لے لی ہے۔جے رمیش نے کہا کہ امید ہے کہ مختلف ٹریبونل اور خاص طور پر این جی ٹی اپنی آواز اور اختیارات دوبارہ حاصل کریں گے اور اپنی قانونی ذمہ داریوں کو ان کی روح کے مطابق پورا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس تبدیلی کا اشارہ دینے کے لیے این جی ٹی کو اس اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی رپورٹ کو عام کرنا چاہیے، جسے ٹریبونل نے ماحولیاتی طور پر تباہ کن ’گریٹ نیکوبار آئی لینڈ پروجیکٹ‘ کی ماحولیاتی منظوریوں کا جائزہ لینے کے لیے تشکیل دینے کا حکم دیا تھا اور جس کی بنیاد پر ٹریبونل کو اس پروجیکٹ کو منظوری دینے کے لیے مجبور ہونا پڑا تھا۔ ان کے مطابق کمیٹی کی رپورٹ 8 جولائی 2025 کو این جی ٹی کے سامنے ’مہر بند لفافے‘ میں پیش کی گئی تھی۔ اگر اسے عام کیا گیا، تو یہ ثابت ہو جائے گا کہ اس میں واضح پر اور شدید خامیاں ہیں۔