ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکا کو 6 شرائط پیش کردیں!

Wait 5 sec.

تہران (9 اگست 2026): ایران نے آبنائے ہرمز مکمل کھولنے کے لیے امریکا کو 6 نئی شرائط پیش کر دی ہیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے لیے امریکا کو 6 نئی شرائط پیش کر دی ہیں اور واضح کر دیا ہے کہ تمام شرائط تسلیم کیے جانے تک آبنائے ہرمز کو نہیں کھولا جائے گا۔رپورٹ کے مطابق ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکا کو جو 6 نئی شرائط پیش کی ہیں۔ ان میں سب سے پہلی یہ ہے کہ کبھی بھی اور کسی بھی زبان میں ایران کو دھمکایا نہ جائے، اور نہ ہی ایرانی قوم کے تقدس کی توہین کی جائے۔دوسری شرط یہ ہے کہ ایران اور اس کے اتحادیوں لبنان، فلسطین، یمن اور عراق پر مسلط جنگ اور جارحیت کو دائمی طور پر ختم کیا جائے۔تیسری یہ کہ ایران کی بحری ناکا بندی ختم کی جائے اور امریکی افواج کو ایران کے اطراف سے ہٹایا جائے۔چوتھی شرط یہ ہے کہ جنگ میں ایران کو پہنچائے گئے نقصانات کا بغیر کسی کمی کے پورا ہرجانہ دیا جائے۔پانچویں شرط یہ ہے کہ ایرانی قوم پر عائد کی گئی نا منصفانہ اور غیر قانونی پابندیاں اٹھائی جائیں۔چھٹی شرط یہ کہ غیر مشروط طور پر ایرانی عوام کے چرائے گئے اور منجمد کیے گئے اثاثے جاری کیے جائیں۔محمد باقر ذوالقدر نے واضح کیا کہ جنگ ہو یا مذاکرات سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کبھی بھی اپنے ارادوں سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔دوسری جانب پاسداران انقلاب نے بھی واضح کیا ہے کہ ہرمز محض آبی گزرگاہ نہیں بلکہ ہمارے لیے محاذِ جنگ کا حصہ بن چکی ہے۔ جب تک دشمن ہماری تمام شرائط قبول نہیں کرتا آبنائے ہرمز بند رہے گی۔