باپ کا نام ’’پردیسی‘‘، بچوں کے نام ’’انگریز اور پنجابی‘‘، وجہ جان کر آپ کی ہنسی نہیں رُکے گی!

Wait 5 sec.

(13 اگست 2026): نام کسی بھی انسان کی پہچان ہوتا ہے لیکن ایک خاندان ایسا بھی ہے جن کے نام جان کر شاید آپ اپنی ہنسی پر قابو نہ رکھ سکیں۔نام کسی بھی انسان کی شناخت ہوتا ہے۔ لوگوں کی اکثریت مذہب، قبائل، ثقافت کی بنیاد پر بھی نام رکھتی ہے۔ لیکن ایک خاندان ایسا بھی ہے، جس کے افراد کے نام اتنے عجیب وغریب ہیں کہ جان کر آپ کی ہنسی نہیں رک سکے گی اور اس کی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے۔بھارتی میڈیا کے مطابق منفرد ناموں والا یہ خاندان بھارتی ریاست بہار کے بھوپ نگر گاؤں کا ہے۔ اس خاندان کے افراد کے نام پردیسی، انگریز، کانگریس، پنجابی، گلاٹی اور دیسی ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ محض گھریلو یا عرفی نام نہیں بلکہ خاندان کے کئی افراد کے نام سرکاری دستاویزات، آدھار کارڈ، راشن کارڈ اور دیگر شناختی دستاویزات میں بھی اسی طرح درج ہیں۔ جب کوئی شخص پہلی بار ان کے نام سنتا ہے تو حیران بھی ہوتا ہے اور بعض اوقات بے اختیار مسکرا بھی دیتا ہے۔یہ عجیب وغریب نام رکھے جانے کی وجوہات بھی انتہائی دلچسپ ہیں، جو پڑھ کر آپ بھی ہنسے بغیر نہ رہ سکیں گے۔’’ودیشی‘‘ عجوبہ ناموں والے خاندان کے سربراہ ا’’ودیشی مانجھی‘‘ اب اس دنیا میں موجود نہیں ہیں۔ ودیشی مانجھی کے نام کی کہانی بھی خاصی دلچسپ ہے۔ خاندان کے ایک شخص کے مطابق آزادی کی جدوجہد کے زمانے میں ان کے والد نے انگریزوں کے لیے استعمال ہونے والے لفظ ’’ودیشی‘‘ سے متاثر ہوکر اپنے بیٹے کا نام ودیشی رکھ دیا تھا۔’’گُلاٹی‘‘ یہ 80 سالہ بزرگ ودیشی کے بھائی ہیں۔ ان کے مطابق وہ بچپن میں سانپ کی طرح ’’گلاٹی‘‘ مارا کرتے تھے، اسی مناسبت سے ان کا نام گلاٹی رکھ دیا گیا۔’’پردیسی‘‘ پردیسی نامی نوجوان ودیشی کے سب سے بڑے بیٹے کا نام ہے۔ یہ نام رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ جب وہ پیدا ہوئے تو پیدائش سے دو تین ماہ قبل اس کا والد مزدوری کے لیے دوسرے صوبے جا چکا تھا۔خاندان نام کے سلسلے میں مخمصے میں پڑ گیا اور کسی نام پر متفق نہ ہوا تو، علاقے کے ایک بزرگ نے کہا کہ بچے کا باپ پردیس میں ہے، اس لیے اس کا نام پردیسی رکھ دو، یوں وہ پردیسی بن گیا۔’’انگریز‘‘ ودیشی کے دوسرے بیٹے کا نام انگریز ہے۔ اس نام کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے۔گاؤں والوں کے مطابق جب بچے کو اسکول میں داخل کرانے کا وقت آیا تو ودیشی اس کو لے کر اسکول گیا۔ ہیڈ ماسٹر نے پوچھا کیا نام ہے تو باپ نے کہا آپ جو چاہیں اچھا سا رکھ دیں۔اس موقع ہیڈ ماسٹر نے تعلیم کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے انگریزوں کا حوالہ دیا تو ودیشی نے سوال کیا کہ انگریز بہت زیادہ پڑھے لکھے ہوتے ہیں۔ ہیڈ ماسٹر نے کہا ہاں تو ودیشی نے اس سے متاثر ہو کر اپنے اس بچے کا نام ’’انگریز‘‘ ہی رکھ دیا۔آج سے کئی دہائیاں قبل ان کے خاندان کے بزرگ زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے اور دور دراز دیہی و جنگلاتی علاقوں میں زندگی گزارتے تھے۔تاہم ’’انگریز‘‘ اصل انگریز کی طرح زیادہ تعلیم حاصل نہ کر سکا اور پانچویں جماعت پڑھنے کے بعد مزدوری کرنے لگا۔ گاؤں کے لوگ اس سے مذاق میں اب بھی یہ کہتے ہیں کہ ’’انگریز چلے گئے، تم رہ گئے کیا؟‘‘ تاہم وہ اسے زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتا۔’’کانگریس‘‘ 28 سالہ ’’کانگریس‘‘ کوئی سیاسی کارکن نہیں بلکہ اس کے باپ نے یہ نام اس لیے رکھا کہ جب اس کی پیدائش ہونے والی تھی تو علاقے میں بھارت کی بڑی سیاسی جماعت کانگریس کے رہنما انتخابات کے سلسلے میں آئے تھے۔باپ نے اسی سے متاثر ہو کر اس کا نام کانگریس رکھ دیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے تمام شناختی دستاویزات میں بھی نام کانگریس ہی درج ہے۔’’پنجابی‘‘ خاندان کے ایک اور فرد کا نام پنجابی مانجھی ہیں۔ اس کے مطابق یہ نام پنجاب کے نام پر رکھا گیا تھا۔ اس کی مکمل وجہ معلوم نہیں، تاہم خاندان میں یہ بات بتائی جاتی رہی ہے کہ ان کے والد نے کبھی پنجاب میں مزدوری کی تھی۔ اسی نسبت سے اس نام پنجابی رکھ دیا گیا۔