تعلیم پر کم خرچ، یونیسکو کے 15 فیصد کے معیار سے کیوں پیچھے ہے ہندوستان؟ آئیے جانیں

Wait 5 sec.

ملک میں تعلیم کو بہتر بنانے، اسکولوں کی حالت بہتر کرنے اور بچوں کو زیادہ سے زیادہ تعلیم سے جوڑنے کے لیے کئی منصوبے چلائے جا رہے ہیں۔ لیکن تعلیم پر حکومت کے مجموعی اخراجات کے اعداد و شمار مختلف تصویر پیش کر رہے ہیں۔ یونیسکو کی 2026 ’ایس ڈی جی 4 اسکور بورڈ‘ کے مطابق ہندوستان تعلیم پر اپنے مجموعی سرکاری اخراجات کا 14.2 فیصد حصہ خرچ کر رہا ہے۔ یہ یونیسکو کے طے کردہ 15 فیصد کے کم از کم معیار سے کم ہے۔ یعنی ہندوستان اس معاملے میں اب بھی ہدف سے پیچھے ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جی ڈی پی کے حساب سے ہندوستان تعلیم پر 4.1 فیصد خرچ کر رہا ہے۔ یہ یونیسکو کے 4 فیصد کے کم از کم معیار سے کچھ زیادہ ہے۔ لیکن حکومت کے کل بجٹ میں تعلیم کا حصہ مسلسل کم ہوا ہے۔سال 2015 میں یہ حصہ 15.7 فیصد تھا، جو اب گھٹ کر 14.2 فیصد رہ گیا ہے۔ یعنی تقریباً ایک دہائی میں تعلیم کے حصے میں 1.5 فیصد پوائنٹس کی کمی آئی ہے۔ تعلیم پر اخراجات کا معاملہ اس لیے بھی اہم ہے، کیونکہ ہندوستان ابھی اسکولوں میں بچوں کی تعلیم مکمل ہونے کے معاملے میں بھی اپنے طے شدہ اہداف سے پیچھے ہے۔ یونیسکو کے اعداد و شمار کے مطابق چھٹی جماعت سے 8ویں جماعت تک کی تعلیم مکمل کرنے کی شرح ہندوستان میں 86 فیصد ہے، جبکہ 2025 کے لیے قومی ہدف 99 فیصد مقرر کیا گیا تھا۔ وہیں 9ویں جماعت سے 12ویں جماعت تک کی تعلیم مکمل کرنے کی شرح صرف 51 فیصد ہے، جبکہ ہدف 84 فیصد تھا۔ یونیسکو نے دونوں سطحوں پر ہندوستان کی پیش رفت کو سست قرار دیا ہے۔تعلیم 2030 منصوبے کے تحت دنیا کے ممالک نے تعلیم پر جی ڈی پی کا 4 سے 6 فیصد یا اپنے مجموعی سرکاری اخراجات کا 15 سے 20 فیصد حصہ خرچ کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا۔ یونیسکو ان دونوں میں سے کم از کم حد کو بنیاد مانتا ہے۔ ہندوستان جی ڈی پی کے حساب سے تعلیم پر 4.1 فیصد خرچ کر رہا ہے، یعنی اس معیار کو پورا کرتا ہے۔ لیکن مجموعی سرکاری اخراجات میں تعلیم کا حصہ کم ہو گیا ہے۔ 2015 میں یہ 15.7 فیصد تھا، جو اب کم ہو کر 14.2 فیصد رہ گیا ہے۔ یعنی اس معاملے میں ہندوستان یونیسکو کے 15 فیصد کے کم از کم معیار سے 0.8 فیصد پوائنٹ پیچھے ہے۔ ہندوستان میں تعلیم سے متعلق کئی بڑے منصوبے چل رہے ہیں۔یونیسکو کے ہندوستانی پروفائل کے مطابق تعلیمی منصوبہ تقریباً 15.6 کروڑ طلبہ تک پہنچتا ہے، جبکہ ’پی ایم پوشن‘ کے تحت تقریباً 11.8 کروڑ بچوں کو فائدہ ملتا ہے۔ اس کے باوجود تعلیم پر سرکاری اخراجات کے حصے میں آئی کمی سوالات کھڑے کرتی ہے۔ پوری دنیا میں تعلیم پر اخراجات کے حوالے سے صورتحال بہت اچھی نہیں ہے۔ یونیسکو کے مطابق 205 ممالک میں سے صرف 39 ممالک ایسے ہیں، جو جی ڈی پی اور کل سرکاری اخراجات، دونوں کے کم از کم معیار پر پورا اترتے ہیں۔ ایسے میں ہندوستان کے سامنے چیلنج صرف تعلیم پر زیادہ رقم خرچ کرنے کا نہیں، بلکہ یہ یقینی بنانا بھی ہے کہ دستیاب رقم اسکولوں، اساتذہ اور طلبہ تک صحیح طریقے سے پہنچے اور تعلیم کے نتائج میں حقیقی بہتری نظر آئے۔