ایران آبنائے ہرمز سے سالانہ کتنے ارب ڈالر کما سکتا ہے؟

Wait 5 sec.

تہران / مسقط : ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر سروس فیس نافذ ہونے کے بعد سالانہ سو ارب ڈالر سے زائد کما سکتا ہے۔آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر 5 سے 7 فیصد تک ٹرانزٹ یا ’سروس فیس‘ عائد کرنے کی ایرانی تجویز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے ایک بڑی تبدیلی ثابت ہوسکتی ہے۔گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق اندازہ لگایا گیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز سے جنگ سے پہلے کی سطح پر تجارتی سرگرمیاں بحال ہوجائیں تو صرف 7 فیصد فیس سے ایران کو سالانہ 100 ارب ڈالر سے زائد کی مجموعی آمدنی حاصل ہوسکتی ہے۔ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے ایک فریم ورک پر بات چیت جاری ہے۔ مجوزہ انتظام کے تحت تہران دنیا کے اہم ترین تیل کے راستے پر کسی حد تک انتظامی کردار حاصل کرنا چاہتا ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ جلد ختم ہونے والی ہے، ان کے مطابق ایران زیادہ دیر تک موجودہ صورتحال جاری نہیں رکھ سکتا۔آبنائے ہرمز کی اہمیتجنگ سے قبل معمول کے حالات میں آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً 2 کروڑ سے 2 کروڑ 10 لاکھ بیرل خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات گزرتی تھیں، جو دنیا کی مجموعی یومیہ تیل کھپت کا تقریباً پانچواں حصہ اور سمندری راستے سے ہونے والی تیل کی تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی ہے۔اس کے علاوہ بڑی مقدار میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) بھی اسی آبی گزرگاہ سے منتقل ہوتی ہے، بحری آمدورفت متاثر ہونے کے بعد ایران نے عمان کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کے انتظام میں باضابطہ کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔معاہدے کے باوجود آبی گزرگاہ کھلنے کی ضمانت نہیںایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے واضح کیا ہے کہ عمان کے ساتھ طے پانے والا ممکنہ معاہدہ آبنائے ہرمز کو معمول کی تجارتی آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولنے کی ضمانت نہیں دیتا۔تہران کا مؤقف ہے کہ آزادانہ بحری آمدورفت بحال کرنے سے قبل امریکا کو ایران کی جانب سے پیش کردہ متعدد سیاسی اور اقتصادی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔یہ وضاحت ایک روز بعد سامنے آئی جب تہران نے اعلان کیا تھا کہ ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے مخصوص راستے پر اتفاق کرلیا ہے۔ اس پیش رفت سے دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک کے دوبارہ کھلنے کی امید پیدا ہوئی تھی۔ ایران 5 سے 7 فیصد فیس کا خواہاںایک سینئر ایرانی عہدیدار کے مطابق تہران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے کارگو کی مالیت کا 5 سے 7 فیصد ٹرانزٹ یا ’سروس فیس‘ وصول کرنے کا خواہاں ہے۔دوسری جانب عمان نے آبنائے ملاکا کی طرز پر رضاکارانہ فیس کا ماڈل تجویز کیا ہے، جس کے تحت نیوی گیشن، ماحولیاتی تحفظ اور ریسکیو جیسی خدمات کے عوض رضاکارانہ ادائیگی کی جائے گی، نہ کہ لازمی ٹول وصول کیا جائے۔امریکا کی جانب سے فیس کی مخالفتدونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے، تاہم بحری ٹریفک کی مکمل بحالی، انشورنس سے متعلق پیچیدگیوں، امریکی پابندیوں کے خطرات اور مجوزہ فیس کے نفاذ جیسے معاملات اب بھی حل طلب ہیں۔ٹول سے کتنی آمدنی ہوسکتی ہے؟وسیع پیمانے پر گردش کرنے والے ایک تخمینے کے مطابق اگر آبنائے ہرمز سے تجارتی سرگرمیاں جنگ سے قبل کی سطح پر واپس آجائیں اور کارگو کی مالیت بھی اسی سطح پر رہے تو 7فیصد ٹول سے روزانہ تقریباً 38 کروڑ 50 لاکھ ڈالر حاصل ہوسکتے ہیں۔سالانہ مجموعی آمدنی سو ارب ڈالر سے زائد اگر فیس وصول کرنے کی لاگت انتہائی کم تصور کی جائے تو تقریباً 136 ارب ڈالر سالانہ تک کی ممکنہ خالص آمدنی کا تخمینہ بھی سامنے آیا ہے۔تاہم یہ اعدادوشمار فرضی صورتحال پر مبنی ہیں اور حقیقی آمدنی کا انحصار بحری ٹریفک، کارگو کی مالیت، فیس کے نفاذ اور بین الاقوامی معاہدوں سمیت متعدد عوامل پر ہوگا۔ایران کی جانب سے پہلے خلیجی ممالک کے ساتھ سیکیورٹی، ماحولیاتی تحفظ اور دیگر خدمات کے عوض سالانہ تقریباً 40 ارب ڈالر کی مجموعی آمدنی کے اندازے بھی پیش کیے گئے تھے، جبکہ فی بیرل یا فی بڑے آئل ٹینکر فلیٹ فیس کی تجاویز سے حاصل ہونے والی ممکنہ آمدنی اس سے بھی کہیں کم بنتی ہے۔واضح رہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کی بحالی کے لیے ایک نئے فریم ورک پر پیش رفت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی مجوزہ ٹول یا ’سروس فیس‘ کے نفاذ کے لیے حتمی معاہدہ طے نہیں پایا۔’آبنائے ہرمز پر چار جہاز روک دیے‘ ایرانی پاسداران انقلاب کا دعویٰ