ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ عمان کے ساتھ مذاکرات خوش اسلوبی سےجاری ہیں۔اپنے بیان میں ترجمان نے کہا کہ کچھ عناصر کسی ممکنہ معاہدے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے معاہدے میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے نام ظاہر نہیں کیے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی ’’دشمنانہ کارروائیوں‘‘ کا سلسلہ جاری ہے موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز کو محفوظ قرار نہیں دیا جا سکتا۔مذاکراتایران کا کہنا ہے کہ عمان معاہدہ ‘آخری مراحل’ میں ہے لیکن امریکا کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ایران نے اتوار کے روز کہا کہ آبنائے ہرمز میں نئی شپنگ لین کی وضاحت کے لیے عمان کے ساتھ معاہدہ آخری مراحل میں ہے لیکن اس نے اس بات کا اعادہ کیا کہ آبی گزرگاہ صرف اس صورت میں دوبارہ کھلے گی جب امریکہ دیگر شرائط پوری کر لے گا۔ایک امریکی اہلکار نے خبر ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ ایران اور عمان کے درمیان ایک معاہدہ قریب ہے اور جلد ہی اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھول سکتا ہے جس میں عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کا پانچواں حصہ تھا۔