یمن میں حوثی باغیوں کے دو صوبوں پر ڈرون اور میزائل حملے، 58 یمنی فوجی اہلکار شہید

Wait 5 sec.

صنعا(7 اگست 2026): یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی عرب پر حملے سے چند گھنٹے قبل مارب اور حضرموت کے صوبوں میں یمنی سرکاری فوج کے کیمپوں پر شدید میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جن کے نتیجے میں 58 فوجی اہلکار شہید ہو گئے۔عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق حوثیوں نے صوبہ الجوف سے 8 میزائل داغے، جنہوں نے حضرموت کے علاقوں الثنیہ اور العبر جبکہ مارب کے علاقے الروک میں فوجی کیمپوں کو نشانہ بنایا۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق حملے میں شہید ہونے والوں کی صحیح تعداد کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ اے ایف پی نے ایک فوجی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کم از کم 58 یمنی فوجی مارے گئے ہیں، جو کہ اس سے پہلے بتائے گئے 38 ہلاکتوں سے زیادہ ہے۔رپورٹ کے مطابق حملے کے وقت فوجی اہلکار تربیتی مشق کے لیے جمع تھے، جس کے باعث جانی نقصان زیادہ ہوا۔ یمنی حکومت کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، جبکہ حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائیاں حکومتی فوج کی حالیہ عسکری نقل و حرکت کے جواب میں کی گئیں۔یمنی فوج نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا حصہ ہیں۔ دوسری جانب، عرب میڈیا کے مطابق رواں سال کے دوران ہونے والی یہ کارروائیاں 2022 کے بعد یمن کی سب سے خونریز فوجی جھڑپیں قرار دی جا رہی ہیں، جن کے بعد خطے میں صورتِ حال انتہائی سنگین ہو گئی ہے۔عرب اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے یمنی حکومت اور عوام سے حوثیوں کے اس غدارانہ حملے پر گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔اس سے قبل روئٹرز نے ایک سینئر سعودی عہدیدار کے حوالے سے بتایا تھا کہ پاسداران انقلاب کی ہدایت پر عراقی ملیشیا حوثی باغیوں کے ساتھ مل کر شمال اور جنوب دونوں اطراف سے حملے کر سکتی ہے۔علاوہ ازیں، امریکی سفارت خانے نے بھی ان حملوں کو "بزدلانہ دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے شہداء کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔