ہندو فنکار پٹتا رہا اور انتہا پسندوں سے کہتا رہا ’’تو کیا ہوا اگر میں مسلمان ہوں‘‘

Wait 5 sec.

کولکتہ (11 اگست 2026): مغربی بنگال کے ضلع پرگنا میں ایک ہندو تھیٹر فنکار نے محض اس لیے مار کھائی کیوں کہ انتہا پسند ہندو اسے مسلمان سمجھتے رہے، لیکن فنکار بھی انتہا پسندوں کو غلط ثابت کرنے کے لیے خاموشی سے پٹتا رہا۔مغربی بنگال کے شمالی ضلع پرگنا میں ایک تھیٹر آرٹسٹ شبھانکر داس شرما نے نوا پارہ پولیس اسٹیشن میں رپورٹ درج کرائی ہے کہ اسے چار انتہا پسندوں نے روکا اور اس کا مذہب پوچھ کر وحشیانہ طریقے سے مارا پیٹا۔انتہا پسندوں کو فنکار کے مسلمان ہونے کا شبہ تھا کیوں کہ اس نے سیاہ کُرتا اور پاجامہ پہن رکھا تھا۔ شرما کے بیان کے مطابق اس کے ساتھ یہ واردات 28 جولائی کی رات اگرپارہ ریلوے اسٹیشن کے قریب اس وقت پیش آئی جب وہ ایک پروگرام کے بعد گھر لوٹ رہا تھا۔شرما نے بتایا ’’چار افراد نے مجھے راستے میں روکا اور کپڑے دیکھ کر مذہب کے بارے میں پوچھ گچھ کرنے لگے، انھوں نے پوچھا کہ کیا میں مسلمان ہوں۔ لیکن میں نے جواب دیا کہ کیا ہوا اگر میں مسلمان ہوں۔‘‘شرما نے ان سے کہا ’’یہ ایک آزاد ملک ہے اور اس ملک میں میں اجنبیوں کو اپنا مذہب بتانے کا پابند نہیں ہوں۔‘‘ اس جواب سے انتہا پسند مشتعل ہو گئے اور شرما کو بری طرح پیٹنے لگے لیکن اس نے یہ نہیں بتایا کہ وہ مسلمان نہیں ہے۔بی جے پی رہنما کے داماد کی 25 شادیاں نکل آئیں!شرما نے کہا ’’اس موقع پر میں نے محسوس کیا کہ صرف اپنے آپ کو بچانے کے لیے یہ کہنا گناہ ہوگا کہ میں ہندو ہوں، اسی لیے میں نے ان سے پوچھا کہ کیا مسلمان ہونا جرم ہے۔‘‘پولیس رپورٹ میں فنکار نے بتایا کہ اسے چہرے، آنکھوں اور سینے پر لاتوں اور گھونسوں سے چوٹیں پہنچائی گئیں، زمین پر گرا کر کرتا پھاڑا گیا۔ حملہ آوروں نے مارتے ہوئے شر انگیز مذہبی نعرے بھی لگائے۔شبھانکر داس شرما نے کہا کہ حملے کے دوران وہ کچھ دیر کے لیے ہوش کھو بیٹھا تھا، ہوش میں آنے کے بعد وہ کسی طرح گھر پہنچا۔ ابتدائی طور پر شرما نے واقعے کو عام نہیں کیا کیوں کہ وہ خوف زدہ تھا لیکن بعد میں سوشل میڈیا پر اپنی تصویر شیئر کی جس میں اس کی آنکھوں اور چہرے پر سوجن صاف دیکھی جا سکتی ہے۔