امریکی افواج کا عراقی کردستان سے انخلا، عراقی حکام کا اہم بیان

Wait 5 sec.

بغداد (11 اگست 2026): امریکی فوج کا عراقی کردستان سے انخلا 30 ستمبر تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔عراقی حکام نے تصدیق کی ہے کہ امریکی افواج تیس ستمبر تک عراقی کردستان سے اپنا انخلا مکمل کر لے گی، اور کردستان میں موجود امریکی فوجی اڈے مرحلہ وار عراقی سیکیورٹی فورسز کے حوالے کیے جائیں گے۔حکام کا کہنا ہے کہ 2024 میں طے پانے والے معاہدے کے تحت عراق اور امریکا نے امریکی مشن کی مرحلہ وار منتقلی پر اتفاق کیا تھا۔30 ستمبر کی آخری تاریخ بغداد اور واشنگٹن نے 2024 میں ہونے والے ایک معاہدے کے تحت طے کی تھی۔ اس معاہدے کے تحت عراق میں امریکی قیادت والے اتحاد کا کردار جنگ اور مشاورت سے بدل کر دونوں ملکوں کے درمیان سیکیورٹی تعاون تک محدود کیا جانا تھا۔کردستان میں اس اتحاد کے کئی اہم مراکز موجود ہیں، جنھیں داعش کے باقی ماندہ عناصر کے خلاف تربیت، رسد اور فضائی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔آبنائے ہرمز کو بارودی سرنگوں سے مکمل طور پر صاف کر دیا، ٹرمپ کا دعویٰحکومتی ترجمان حیدر العبودی نے پریس کانفرنس میں کہا ’’بین الاقوامی اتحاد کے ساتھ رابطہ کاری جاری ہے اور ان مراکز کی فہرست مرتب کرنے اور انھیں متعلقہ عراقی افواج کے حوالے کرنے کے لیے کام جاری ہے۔‘‘انھوں نے کہا ’’30 ستمبر کو اس معاملے کو مکمل کرنے کی سمت کام منظم رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے اور یہ مراکز عراقی سیکیورٹی اداروں کے زیرِ انتظام ہوں گے۔‘‘مقامی حکام نے گزشتہ چند روز کے دوران نیم خودمختار علاقے کردستان میں امریکی افواج کی ’’غیر معمولی نقل و حرکت‘‘ کی اطلاع دی ہے، جس سے ان کے تیز رفتار انخلا کے امکانات کے بارے میں قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں۔ حکام نے رواں ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ اربیل میں فوجی قافلے اور سازوسامان کی منتقلی دیکھی گئی ہے۔العبودی کے بیانات بغداد کی جانب سے اس بات کی پہلی باضابطہ تصدیق ہیں کہ علاقے میں یہ عمل تیس ستمبر کے ہدف کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے۔