مہاراشٹر کے کلیان میں واقع سندیپ ہوٹل سے کھڑک پاڑا کے درمیان ایک آوارہ کتے کا زبردست خوف پیدا ہو گیا ہے۔ اس آوارہ کتے نے محض 7 گھنٹوں میں تقریباً 125 لوگوں کو کاٹ لیا ہے، جس کی وجہ سے علاقے میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا ہو چکا ہے۔ کتے کے کاٹنے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ علاج کے لیے اسپتال پہنچے ہیں۔ رکمنی بائی اسپتال کے ڈاکٹر محمد انیس کے مطابق 9 اگست کو اسپتال میں کتے کے کاٹنے کے مجموعی طور پر 48 معاملے سامنے آئے ہیں، جب کہ کئی زخمی افراد علاج کے لیے پرائیویٹ اسپتالوں میں گئے ہیں۔ڈاکٹر انیس نے بتایا کہ اسپتال پہنچنے والے مریضوں میں بیشتر مغربی کلیان کے چک گھر، گودریج ہل، آدھارواڑی اور ریتی بندر علاقوں کے رہنے والے ہیں۔ ایک ہی دن میں اتنی بڑی تعداد میں ’ڈاگ بائٹ‘ کے معاملے سامنے آنے سے اسپتال انتظامیہ پر بھی مریضوں کے علاج کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ ڈاکٹر کے مطابق کتے کے کاٹنے سے زخمی ہوئے مریضوں کی حالت نازک ہے۔ خصوصاً بچوں کو گہرے زخم ہونے کے معاملے سامنے آئے ہیں، جن کے لیے خصوصی علاج کی ضرورت ہے۔سڑکوں سے آوارہ کتے ہٹائیں، شیلٹر ہوم میں رکھیں، سپریم کورٹ نے جاری کئے کئی اہم احکاماتگہرے زخم والے بچوں کو بہتر اور خصوصی علاج کے لیے ساین اسپتال بھیجا گیا ہے۔ وہاں پیڈیاٹرک سرجن یعنی بچوں کے خصوصی سرجن ان کا علاج کریں گے۔ صرف 7 گھنٹوں کے اندر تقریباً 125 سے 135 لوگوں کے زخمی ہونے کی وجہ سے مقامی لوگوں کی پریشانیاں بڑھ گئی ہیں۔ بڑی تعداد میں آوارہ کتے کے حملے کا شکار ہونے کے بعد علاقے میں تحفظ اور روک تھام کو لے کر سوال اٹھنے لگے ہیں۔