بیجنگ: سال کا سب سے طاقتور ترین سمندری طوفان ڈولفن چین کے مشرقی ساحل سے ٹکرا گیا، تاہم 10 لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات اور ہنگامی پناہ گاہوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق سال کا سب سے طاقتور ترین سمندری طوفان ‘ڈولفن’ 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی تیز رفتار ہواؤں کے ساتھ چین کے مشرقی ساحلی صوبے ژے جیانگ کے شہر یوہوان سے ٹکرا گیا ہے۔طوفان کی شدت کے باعث ساحلی علاقوں میں تباہی، شدید بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات پیدا ہو گئے ہیں جبکہ مشرقی چین میں نقل و حمل کا پورا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔طوفانی خطرات کے پیشِ نظر سیکیورٹی اور انتظامی اداروں نے 10 لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات اور ہنگامی پناہ گاہوں میں منتقل کر دیا ہے۔چین کے معاشی مرکز شنگھائی سمیت مختلف شہروں میں معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہیں۔ شنگھائی میں 1,400 پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں، جبکہ میٹرو سروس اور سیاحتی و تفریحی مقامات کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق 10 اگست تک ژے جیانگ، شنگھائی، فوجیان، جیانگ شی، انہوئی اور جیانگ سو میں موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ جاری رہے گا، جبکہ ژے جیانگ کے کچھ علاقوں میں 500 ملی میٹر تک ریکارڈ بارش کا امکان ہے۔چین سے ٹکرانے سے قبل اس طوفان نے جاپان کی جنوبی کاؤنٹی اوکیناوا اور تائیوان میں مچائی، جہاں 6 افراد زخمی ہوئے اور 50 ہزار سے زائد مکانات کی بجلی منقطع ہو گئی۔تائیوان ایئرپورٹ پر انتہائی تیز ہواؤں کے دوران اسٹارلکس ایئربس طیارے کی خطرناک لینڈنگ کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر شدید وائرل ہو رہی ہے۔حکام کے مطابق پہلے سے کیے گئے حفاظتی اقدامات اور الرٹ کے باعث صورتحال میں کچھ بہتری آنے پر الرٹ کی شدت میں کمی کی گئی ہے، تاہم بدھ تک تمام ساحلی علاقوں میں مکمل الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔