چنئی: تمل ناڈو اسمبلی نے منگل کو ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے انڈرگریجویٹ میڈیکل کورسز میں داخلے کے لیے ’نیشنل ایلیجیبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ‘ (نیٹ) ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ریاستی حکومت نے اس مرکزی داخلہ امتحان کے خلاف اپنے دیرینہ موقف کو ایک بار پھر دہرایا ہے۔ قرارداد پر اسمبلی میں شدید بحث ہوئی۔ بی جے پی کے رکن اسمبلی ایم بھوج راجن نے قرارداد کی سخت مخالفت کی اور ووٹنگ سے عین قبل ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔ریاست کے وزیر صحت، طبی تعلیم اور خاندانی بہبود کے جی ارون راج نے نیٹ مخالف قرارداد ایوان میں پیش کی۔ قرارداد میں مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ میڈیکل داخلوں کے لیے موجودہ مرکزی نظام کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ ریاستی حکومت نے نیٹ کے خلاف متعدد وجوہات پیش کیں، جن میں امتحان کے انعقاد میں سامنے آنے والی بے ضابطگیاں، مہنگے کوچنگ مراکز کا بڑھتا کاروبار اور طلبہ کی خودکشیوں کے واقعات شامل ہیں۔وزیر ارون راج نے مرکزی حکومت سے نیشنل میڈیکل کمیشن ایکٹ 2019، نیشنل کمیشن فار انڈین سسٹم آف میڈیسن ایکٹ 2020 اور نیشنل کمیشن فار ہومیوپیتھی ایکٹ 2020 سمیت متعلقہ مرکزی قوانین میں ضروری ترمیم کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست چاہتی ہے کہ پرانا نظام بحال کیا جائے، جس کے تحت تمل ناڈو میں بارہویں جماعت کے بورڈ امتحانات کے نمبروں کی بنیاد پر میڈیکل کورسز میں داخلہ دیا جا سکے۔قرارداد میں کہا گیا کہ نیٹ سماجی انصاف اور مساوات کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے اور میڈیکل تعلیم کے معاملے میں ریاستوں کے اختیارات کو بھی متاثر کرتا ہے۔ ریاستی حکومت کے مطابق نیٹ کا دیہی اور معاشی طور پر کمزور پس منظر سے تعلق رکھنے والے طلبہ پر غیر مساوی اثر پڑتا ہے۔ خاص طور پر تمل میڈیم سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو مہنگی نجی کوچنگ کی سہولت نہ ہونے کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ریاستی حکومت نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ نیٹ کی وجہ سے طلبہ کی توجہ اسکول کے باقاعدہ نصاب کے بجائے صرف داخلہ امتحان کی تیاری پر مرکوز ہو رہی ہے، جبکہ کوچنگ مراکز بھاری فیس وصول کر رہے ہیں۔ایف سی آر اے 2026 کے خلاف بھی قرارداداسمبلی نے ایف سی آر اے 2026 سے متعلق ایک دوسری خصوصی قرارداد بھی منظور کی۔ وزیر راج موہن نے کہا کہ فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ (ایف سی آر اے) 2010 سے نافذ ہے اور اس کا مقصد ہندوستان آنے والے غیر ملکی فنڈز کو منظم کرنا ہے تاکہ قومی سلامتی، عوامی نظم اور خودمختاری متاثر نہ ہو۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ میں ایف سی آر اے 2026 ترمیمی بل پیش کیا ہے۔ اس معاملے پر اقلیتی برادریوں کے رہنماؤں نے گزشتہ روز وزیر اعلیٰ سے ملاقات کر کے بل واپس لینے کے لیے مرکز پر دباؤ ڈالنے کی درخواست کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ مجوزہ ترمیم کا اثر تعلیمی اداروں، اسپتالوں اور دیگر تنظیموں پر پڑ سکتا ہے۔