شام کی عدالت نے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنا دی

Wait 5 sec.

دمشق (11 اگست 2026): شام کی ایک عدالت نے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنا دی۔اے ایف پی کے مطابق شام کی ایک عدالت نے منگل کو معزول صدر بشار الاسد کو، خانہ جنگی کے دوران ’’جنگی جرائم‘‘ اور ’’انسانیت کے خلاف جرائم‘‘ کے الزامات میں مجرم قرار دیے جانے کے بعد، اُن کی غیر موجودگی میں سزائے موت سنا دی۔اسی مقدمے میں سیکیورٹی عہدے دار بشار الاسد کے ماموں زاد کزن عاطف نجیب کو بھی جنوبی صوبے درعا میں اُس کریک ڈاؤن کی قیادت کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی، جس کے نتیجے میں بغاوت شروع ہوئی اور بعد ازاں خانہ جنگی چھڑ گئی۔سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان نجیب قیدیوں کی وردی پہنے ایک پنجرے کے اندر کھڑے تھے جب جج نے سزا سنائی۔ یاد رہے کہ دسمبر 2024 میں باغیوں کے دمشق میں داخل ہونے کے بعد اسد اور ان کے بھائی ماہر روس فرار ہوگئے تھے۔ بعد ازاں نجیب کو گرفتار کر لیا گیا اور وہ مقدمے کا سامنا کرنے والے اعلیٰ ترین عہدے داروں میں شامل ہو گئے۔امریکی افواج کا عراقی کردستان سے انخلا، عراقی حکام کا اہم بیاننجیب شام کی فوج کے سابق بریگیڈیئر جنرل ہیں، جو 2011 میں اسد کے دورِ حکومت میں جنوبی شام کے صوبے درعا میں سیاسی سلامتی کے شعبے کے سربراہ تھے۔اسد کے خلاف یہ فیصلہ عبوری حکام کے دور میں اپنی نوعیت کا پہلا فیصلہ ہے، جنھوں نے رواں سال سابق حکومت سے وابستہ شخصیات کے خلاف مقدمات چلانا شروع کیے، خواہ وہ عدالت میں موجود ہوں یا ان کی غیر موجودگی میں۔