دمشق (11 اگست 2026): بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) جلد ہی طے شدہ معاہدے کے تحت شام میں ایک خفیہ مقام پر ذخیرہ کیے گئے جوہری مواد کو وہاں سے ہٹا دے گی۔امریکا نے یہ معاہدہ آئی اے ای اے اور شام کی نئی حکومت کے درمیان کرایا ہے، یہ معاہدہ تقریباً 3 ہفتے قبل طے پایا ہے، جس کے تحت بین الاقوامی ایجنسی شام کے خفیہ مقام سے جوہری مواد ہٹائے گی۔امریکا نے اس سفارتی انتظام میں ثالثی اور رابطہ کاری کی ہے، ٹرمپ انتظامیہ نے شام اور اسرائیل کے ساتھ مفاہمت کے بعد آئی اے ای اے کو اس معاملے میں شامل کیا، اسرائیل نے واضح کیا تھا کہ وہ سائٹ پر جوہری مواد موجود رہنے کو برداشت نہیں کرے گا، اور اس نے ضرورت پڑنے پر دوبارہ حملہ کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔شام نے بالآخر آئی اے ای اے کے ساتھ اس مواد کو ہٹانے کے معاہدے پر اتفاق کیا۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق خفیہ مقام سائٹ 99 پر موجود متنازع ایٹمی مواد کو انٹرنیشنل اٹامک انرجی کمیشن کے حوالے کیا جائے گا۔شام کی عدالت نے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنا دیامریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے کے حل کے لیے کئی ماہ تک پسِ پردہ سفارتی کوششیں جاری رہیں۔ امریکی انتظامیہ نے اسرائیل سے کسی بھی کارروائی سے گریز کرنے کی درخواست کی اور آئی اے ای اے کو معاملے میں شامل کیا۔ اسرائیل نے 2007 میں الکِبار کے مبینہ جوہری ری ایکٹر پر فضائی حملہ بھی کیا تھا۔بشار الاسد کی حکومت نے خفیہ جوہری پروگرام تیار کیا تھا، جس کا مرکز خفیہ الکِبَر ری ایکٹر تھا۔ 2007 میں اسرائیل کی جانب سے اس ری ایکٹر پر بمباری کے بعد شام کا جوہری پروگرام بڑی حد تک تباہ ہو گیا تھا، تاہم تحقیق و ترقی اور ذخیرہ کرنے کے کئی مراکز باقی رہ گئے تھے، جو زیادہ تر غیر فعال تھے۔گزشتہ دو برس کے دوران اسرائیل جن مقامات پر گہری نظر رکھے ہوئے تھا، ان میں سے ایک کو ’’سائٹ 99‘‘ کہا جاتا ہے۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق ایٹمی مواد میں ’یلو کیک‘ بھی شامل ہے، جو یورینیم کی کان سے حاصل ہونے والا پاؤڈر ہوتا ہے اور بعد میں اسے مزید پراسیس کرکے جوہری ایندھن کے چکر کے حصے کے طور پر افزودہ کیا جا سکتا ہے۔ امریکی عہدیدار نے کہا کہ الاسد حکومت نے الکِبَر کے مقام سے حاصل ہونے والی دیگر باقیات اور ’’بچا ہوا مواد‘‘ بھی سائٹ 99 میں ذخیرہ کیا تھا۔اگرچہ اس مقام پر موجود مواد کو جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا، تاہم اسے ’’ڈرٹی بم‘‘ میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک روایتی دھماکا خیز آلہ ہوتا ہے جو جوہری دھماکے کے بجائے تابکار مواد کو پھیلا کر کسی علاقے کو آلودہ کر دیتا ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل اس بات پر متفق ہو گئے تھے کہ بہترین طریقہ یہ ہے کہ جوہری مواد ہٹانے کے لیے شام کی حکومت کی رضامندی حاصل کی جائے۔ جب ٹرمپ انتظامیہ نے شام کی حکومت کے سامنے یہ معاملہ اٹھایا تو شامی حکام نے کہا کہ انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ اس مقام پر جوہری مواد موجود ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکا، اسرائیل اور شام میں بہت کم لوگوں کو اس بارے میں علم تھا۔بعد ازاں اسرائیل کو یہ خدشہ ہوا کہ ترکی شامی حکومت کو جوہری مواد تک رسائی حاصل کرنے میں مدد دے رہا ہے۔ لیکن ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل سے کہا کہ وہ کوئی کارروائی نہ کرے اور اس معاملے میں IAEA کو شامل کر لیا۔ جس کے نتیجے میں تین ہفتے قبل آئی اے ای اے اور شام کی حکومت کے درمیان ایک معاہدہ طے پا گیا، جس کے تحت جوہری مواد کو اس مقام سے ہٹایا جائے گا۔