امریکہ-ایران کشیدگی کے درمیان قیمتی دھاتوں میں تیزی، سونا 1.55 لاکھ فی 10 گرام، چاندی 2.42 لاکھ فی کلو کے قریب

Wait 5 sec.

نئی دہلی: امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے درمیان منگل کو گھریلو کموڈیٹی بازار میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں زبردست تیزی دیکھی گئی۔ ہفتے کے دوسرے کاروباری دن ابتدائی کاروبار میں دونوں قیمتی دھاتوں میں سرمایہ کاروں کی خریداری بڑھی، جس کے نتیجے میں سونا ایک وقت میں 2000 روپے سے زیادہ اور چاندی 5000 روپے سے زیادہ مہنگی ہو گئی۔ تاہم، بعد میں دونوں دھاتوں کی تیزی کچھ کم ہوئی اور بازار میں اتار چڑھاؤ برقرار رہا۔اکتوبر ڈیلیوری والا سونا پیر کے 153099 روپے فی 10 گرام کے پچھلے بند بھاؤ کے مقابلے میں منگل کو 1600 روپے یعنی 1.04 فیصد کی تیزی کے ساتھ 154699 روپے پر کھلا۔ کاروبار کے دوران سونے کی قیمت میں مزید اضافہ ہوا اور یہ 2,338 روپے یعنی 1.52 فیصد بڑھ کر 155437 روپے فی 10 گرام کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔تاہم، خبر لکھے جانے تک سونے کی تیزی کچھ کم ہو چکی تھی۔ اس وقت سونا 895 روپے یعنی 0.58 فیصد کی بڑھت کے ساتھ 1,53,994 روپے فی 10 گرام پر کاروبار کر رہا تھا۔چاندی کی قیمت میں بھی منگل کو ابتدائی کاروبار کے دوران زبردست اضافہ ہوا۔ ستمبر ڈیلیوری والی چاندی پیر کے 236867 روپے فی کلو کے پچھلے بند بھاؤ کے مقابلے میں 3,132 روپے یعنی 1.32 فیصد کی تیزی کے ساتھ 239999 روپے فی کلو پر کھلی۔کاروبار کے دوران چاندی نے مزید رفتار پکڑی اور 5132 روپے یعنی 2.16 فیصد کے اضافے کے ساتھ 241999 روپے فی کلو کی انٹرا ڈے بلند ترین سطح کو چھو لیا۔ تاہم، بعد میں اس میں بھی تیزی برقرار نہیں رہ سکی۔ خبر لکھے جانے کے وقت چاندی 371 روپے یعنی 0.16 فیصد کی معمولی گراوٹ کے ساتھ 236496 روپے فی کلو پر کاروبار کر رہی تھی۔ماہرین کے مطابق قیمتی دھاتوں کی قیمتوں پر اس وقت جغرافیائی سیاسی خطرات، عالمی معاشی حالات، ڈالر کی قدر اور مرکزی بینکوں کی پالیسیوں سمیت کئی عوامل اثر انداز ہو رہے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھنے سے سرمایہ کاروں میں غیر یقینی کی کیفیت پیدا ہوئی ہے، جس سے سونے جیسے محفوظ سرمایہ کاری کے اثاثوں کی طلب کو سہارا مل سکتا ہے۔اس کے علاوہ، امریکہ کی جانب سے نرم مالیاتی پالیسی کی توقعات اور ڈالر کی کمزوری نے بھی سونے کی قیمتوں کو حمایت دی ہے۔ دوسری جانب چاندی میں سرمایہ کاروں کی بڑھتی دلچسپی اور صنعتی و صارفین کی طلب نے بھی اس کی قیمتوں کو سہارا دیا ہے۔ تاہم، مہنگائی کے اعداد و شمار، مرکزی بینکوں کے آئندہ فیصلوں اور عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی حالات پر بازار کی گہری نظر ہے۔ ان عوامل میں تبدیلی کے ساتھ آنے والے دنوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔