تمل ناڈو اسمبلی نے لوک سبھا کی 543 نشستیں برقرار رکھنے کی قرارداد منظور کر لی

Wait 5 sec.

تمل ناڈو اسمبلی نے بدھ کو وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے کے ذریعہ پیش کردہ ایک خصوصی قرارداد منظور کی ہے۔ اس تجویز میں مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ مستقبل میں ہونے والی حد بندی سے متعلق خدشات کے پیش نظر لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد کو مستقل طور پر 543 ہی برقرار رکھا جائے اور ریاستوں کے درمیان پارلیمانی سیٹوں کی موجودہ تقسیم کو محفوظ کیا جائے۔ قرارداد پیش کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ وجے نے کہا کہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو الاٹ کی گئی لوک سبھا اور اسمبلی سیٹوں کی تعداد دہائیوں سے آبادی پر مبنی از سر نو تقسیم سے محفوظ رہی ہے اور 1971 کی مردم شماری اس طویل عرصے سے چلی آ رہی روک کی بنیاد رہی ہے۔تمل ناڈو اسمبلی میں ’نیٹ‘ ختم کرنے کی قرارداد منظور، مرکز سے میڈیکل داخلہ نظام بدلنے کا مطالبہوزیر اعلیٰ نے ایک ترمیمی بل کا بھی ذکر کیا جو اپریل 2026 میں پارلیمنٹ میں گر گیا تھا۔ اس مجوزہ قانون کا مقصد حد بندی پر عائد پابندیوں کو ہٹانا، 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر انتخابی حلقوں کی حدود پھر سے طے کرنا اور لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ کرنا تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ایسی خبروں سے کہ پارلیمنٹ میں پھر سے ایسی ہی تجویز لائی جا سکتی ہے۔ تمل ناڈو میں پھر سے تشویش بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 1971 کے بعد ہوئی مردم شماری کی بنیاد پر پارلیمانی سیٹوں کی کسی بھی از سر نو تقسیم کا تمل ناڈو اور دیگر جنوبی ریاستون پر برا اثر پڑ سکتا ہے، جنہوں نے آبادی میں اضافے کو کامیابی سے کنٹرول کیا تھا۔تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ وجے نے دلیل دی کہ جن ریاستوں نے مرکزی حکومت کی طرف سے فروغ دیے گئے آبادی پر قابو پانے کے پروگراموں کو مؤثر طریقے سے نافذ کیا ہے، انہیں پارلیمنٹ میں اپنی متناسب نمائندگی کھونے کی سزا نہیں ملنی چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جن ریاستوں نے بہتر اقتصادی ترقی اور صحت عامہ و عوامی بہبود کے اشاریوں میں بہتری حاصل کی ہے، وہ بھی مستقبل میں ہونے والی کسی بھی حد بندی کے عمل کے دوران تحفظ کی حقدار ہیں۔ تمل ناڈو اسبملی میں منظور شدہ قرارداد میں مرکز سے یہ گزارش کی گئی ہے کہ وہ لوک سبھا کی کل نشستوں کی تعداد کو مستقل طور پر 543 پر برقرار رکھے اور پارلیمانی حلقوں کی ریاستوں کے درمیان موجودہ تقسیم کو جوں کا توں برقرار رکھا جائے، تاکہ مختلف ریاستوں کو حاصل موجودہ متناسب نمائندگی کا تحفظ کیا جا سکے۔ اس قرارداد میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے درمیان موجودہ 2.2:1 کے تناسب کو برقرار رکھنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس قرارداد کا ایک اور اہم حصہ یہ مطالبہ تھا کہ موجودہ 543 انتخابی حلقوں کی بنیاد پر ہی 2029 کے عام انتخابات سے لوک سبھا میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن نافذ کیا جائے۔ایوان نے ریاستی اسمبلی کے آئندہ انتخاب میں بغیر کسی مزید تاخیر کے کوٹا نافذ کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ بحث کے دوران ڈی ایم کے، سی پی آئی (ایم)، سی پی آئی، وی سی کے، آئی یو ایم ایل اور دیگر جماعتوں نے حکومت کی قرارداد کی حمایت کی۔ حالانکہ اس کی بعض شقوں پر اختلافات بھی سامنے آئے۔ بی جے پی، اے آئی اے ڈی ایم کے اور پی ایم کے نے قرارداد کے کچھ حصوں کی مخالفت کی، جبکہ بی جے پی، اے آئی اے ڈی ایم کے اور ڈی ایم کے نے خواتین کے لیے ریزرویشن کو جلد نافذ کرنے والی شق کی حمایت کی۔ پارٹی وار بحث ختم ہونے کے بعد قرارداد پر صوتی ووٹنگ کرائی گئی۔ اسپیکر جے سی ڈی پربھاکر نے اعلان کیا کہ وجے حکومت کی جانب سے پیش کردہ خصوصی قرارداد کو اسمبلی نے منظور کر لیا ہے۔