پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس 4 دنوں میں ہونے والا ہے ختم، خواتین ریزرویشن اور ایف سی آر اے کا اب کیا ہوگا؟

Wait 5 sec.

پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے اختتام میں اب صرف 4 دن باقی رہ گئے ہیں، ایسے میں خواتین کے ریزرویشن، حلقہ بندی اور ’فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ‘ (ایف سی آر اے) جیسے بڑے اور موضوع بحث بنے ہوئے بلوں کا مستقبل غیر یقینی بنا ہوا ہے، کیونکہ کانگریس اور بیشتر اتحادی پارٹیاں ان بلوں کی مخالفت پر بضد ہیں۔ پیر کی لوک سبھا کی بزنس لسٹ میں تینوں میں سے کوئی بھی بل شامل نہیں ہے۔آئین ترمیمی بل، جس میں 2029 سے 33 فیصد خواتین کے ریزرویشن اور لوک سبھا کے انتخابی حلقوں کی حلقہ بندی کی تجویز تھی، اپریل میں دو تہائی اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے گر گیا تھا۔ 25 مارچ کو پیش کیا گیا ایف سی آر اے ترمیمی بل، غیر ملکی فنڈ سے چلنے والی تنظیموں پر زیادہ سخت نگرانی کی وکالت کرتا ہے اور عیسائی گروپوں اور اپوزیشن کی سیاسی پارٹیوں نے اس کی مخالفت کی ہے۔ایک خبر رساں ایجنسی کے مطابق کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے الپوزا میں کہا کہ حکومت کو اجلاس کے آخری دنوں میں ایف سی آر اے بل کو آگے بڑھانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے اسے ’غیر آئینی اور عوام مخالف‘ قرار دیا اور خبردار کیا کہ اگر وزیر داخلہ امت شاہ اسے منظور کرانے کی کوشش کرتے ہیں تو اس کی سخت مخالفت کی جائے گی۔ اس درمیان کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے 2023 کے سرمائی اجلاس کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’’تاریخ کو دہرانا نہیں چاہیے۔‘‘ دراصل 2023 میں 146 اراکین پارلیمنٹ کو معطل کر دیا گیا تھا اور بہت کم مخالفت کے ساتھ کئی قوانین منظور کیے گئے تھے۔قابل ذکر ہے کہ 20 جولائی سے شروع ہونے والے اجلاس میں نیٹ پیپر لیک معاملے پر اپوزیشن کے احتجاج اور وزیر اعظم نریندر مودی و امت شاہ سے بیان کے مطالبے کے درمیان بار بار ایوان کی کارروائی ہنگامے کی نذر ہوتی رہی ہے۔ صرف چند بل منظور ہوئے ہیں، جن میں سے بیشتر پر بہت کم بحث ہوئی۔اپوزیشن کو راغب کرنے کی حکومت کی کوششوں کو زیادہ کامیابی نہیں ملی ہے۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے راہل گاندھی سے 2 مرتبہ ملاقات کی، لیکن انھوں نے بلوں پر تمام پارٹیوں کے اتفاق رائے پر زور دیا۔ خواتین کے ریزرویشن بل اور حلقہ بندی کو لے کر ہفتہ کے روز راہل گاندھی اور رجیجو کے درمیان سوشل سائٹ ’ایکس‘ پر لفظی جنگ بھی ہوئی تھی۔قابل ذکر ہے کہ ڈی ایم کے لیڈر ادے ندھی اسٹالن نے حلقہ بندی کے لیے اپنی پارٹی کی مخالفت دہرائی، جبکہ شرومنی اکالی دل نے خواتین کے ریزرویشن اور حلقہ بندی کے بلوں کی حمایت کی، جس سے این ڈی اے میں واپسی کی قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ اس درمیان این سی پی ایس پی کی سپریا سولے نے حلقہ بندی پر تبصرہ کرنے کو عجلت قرار دیا، لیکن ایف سی آر اے بل کی موجودہ شکل کی مخالفت کی اور اسے واپس لینے یا مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کو بھیجنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ این سی پی-ایس پی کا ایک وفد پیر کو وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کرے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ این سی پی ایس پی کے 8 اراکین پارلیمنٹ صبح 11 بجے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کریں گے۔ وہیں، کانگریس نے ان سے خواتین کے ریزرویشن کو حلقہ بندی سے جوڑنے کی انڈیا بلاک کی مخالفت سے آگاہ کرنے کو کہا ہے۔