تہران (10 اگست 2026): ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر جنرل محسن رضائی کو ملک کے اعلیٰ ترین سیکیورٹی ادارے نیشنل سیکیورٹی کونسل کا سربراہ/سیکریٹری مقرر کر دیا ہے۔دفتر تعلقات عامہ کی جانب سے اتوار کو جاری اعلامیے کے مطابق جنرل محسن رضائی کی تقرری کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر کے استعفے کے بعد عمل میں آئی ہے۔ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ محسن رضائی نے 1981 سے 1997 تک پاسداران انقلاب کی قیادت کی، اور ان کی قیادت میں ایران عراق جنگ کا بیش تر عرصہ شامل تھا، محسن رضائی مختلف اہم سیاسی عہدوں پر بھی فائز رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق جنرل محسن رضائی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے فوجی مشیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی برقرار، غزہ امن منصوبہ مستردایوانِ صدارت کے شعبۂ مواصلات و اطلاعات کے نائب سربراہ سید مہدی طباطبائی نے امریکی سوشل میڈیا کمپنی ایکس پر کہا ’’سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری کی حیثیت سے محمد باقر ذوالقدر کے استعفے اور ان کی جانب سے نئی ذمہ داری قبول کیے جانے کے پیشِ نظر، اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے فرمان کے ذریعے محسن رضائی کو سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کا سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔‘‘یہ فیصلہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے رضائی کو کونسل میں اپنا نمائندہ مقرر کیے جانے کے کچھ ہی عرصے بعد کیا گیا۔رضائی ایران کی ’مجمع تشخیص مصلحت نظام‘ کے رکن بھی ہیں، جو ایک ایسا ادارہ ہے جو پارلیمان اور شورائے نگہبان کے درمیان اختلافات کو حل کرتا ہے۔ شورائے نگہبان 12 ارکان پر مشتمل ادارہ ہے جو عہدوں کے امیدواروں اور قانون سازی، دونوں کی جانچ پڑتال کرتا ہے۔دریں اثنا، مجتبیٰ خامنہ ای نے ذوالقدر کو اپنا سیاسی مشیر مقرر کر دیا ہے، خامنہ ای نے ایکس پر کہا ’’آپ کے قابلِ قدر تجربے کے پیشِ نظر میں آپ کو اپنا سیاسی مشیر مقرر کرتا ہوں۔‘‘