ابھیشیک بنرجی کو 16 معاملات میں کلکتہ ہائی کورٹ نے دی عبوری راحت، 31 اگست تک نہیں ہوگی کوئی سخت کارروائی

Wait 5 sec.

ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی کو کلکتہ ہائی کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق عدالت نے ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ کے خلاف درج ایف آئی آر کے 16 معاملات میں عبوری راحت دی ہے۔ عدالت کی ہدایت کے مطابق 31 اگست تک ابھیشیک بنرجی کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہ کی جائے۔ واضح رہے کہ کئی دنوں سے ان معاملات پر سماعت چل رہی تھی۔ جسٹس سوگت بھٹاچاریہ اس معاملے میں 25 اگست کو تحریری حکم جاری کرنے والے ہیں۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ابھیشیک بنرجی تحقیقات میں تعاون کریں، فی الحال ان سے حراست میں لے کر پوچھ تاچھ کیے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے تحقیقاتی ایجنسی کو اپنی تحقیقات جاری رکھنے اور رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے۔واضح رہے کہ ابھیشیک بنرجی کو پیر (10 اگست) کو سپریم کورٹ سے بھی بڑی راحت ملی تھی۔ عدالت نے انہیں آنکھوں کے علاج کے لیے رواں سال ستمبر میں 3 ہفتے کے لیے بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دی تھی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ہر شخص کو بیرون ملک جا کر اپنی پسند کا علاج کرانے کا حق ہے۔ صرف اس لیے کسی کو بیرون ملک جا کر علاج کرانے سے نہیں روکا جا سکتا کیونکہ اس کے خلاف کوئی معاملہ چل رہا ہے۔ابھیشیک بنرجی کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، آنکھوں کے علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی ملی مشروط اجازتسپریم کورٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ابھیشیک بنرجی کو بیرون ملک سفر سے قبل سفر کی تاریخ، ٹکٹ، فلائٹ سے متعلق تمام طرح کی معلومات، ٹھہرنے کی جگہ، ڈاکٹر اور اسپتال وغیرہ کی مکمل تفصیلات فراہم کرنی ہوں گی۔ اس پر ابھیشیک بنرجی کی جانب سے کہا گیا کہ وہ تحقیقات میں تعاون کر چکے ہیں اور بیرون ملک قیام کے دوران بھی وہ تمام شرائط پر عمل کریں گے۔ قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل کلکتہ ہائی کورٹ نے ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ کو آنکھوں کے علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے منع کر دیا تھا اور کولکاتہ کے سرکاری ایس ایس کے ایم اسپتال میں اسپیشلسٹ سے علاج کرانے کا مشورہ دیا تھا۔