نئی دہلی: ملک میں بڑھتی بے روزگاری، تعلیم، سماجی انصاف، معاشی انصاف اور ماحولیات جیسے اہم عوامی مسائل پر وسیع پیمانے پر غور و خوض کے لیے ’رچناتمک کانگریس‘ 12 اور 13 اگست کو راجدھانی نئی دہلی میں دو روزہ قومی کنونشن منعقد کرے گی۔ اس کنونشن میں ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے نمائندے عوامی مفادات سے متعلق مسائل پر تبادلہ خیال کریں گے اور ان کے حل کے لیے آئندہ کی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی بھی قومی کنونشن سے خطاب کریں گے۔ دونوں رہنما ان اہم مسائل پر اپنی بات رکھیں گے اور پارٹی کی حکمت عملی کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیں گے۔کانگریس دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ’رچناتمک کانگریس‘ کے صدر سندیپ دکشت نے بتایا کہ دو روزہ قومی کنونشن میں عوام سے براہ راست جڑے اہم مسائل پر تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام میں شرکت کے لیے ملک کے مختلف علاقوں سے نمائندے دہلی پہنچیں گے۔سندیپ دکشت کے مطابق، کنونشن کے پہلے دن تقریباً 400 نمائندے شرکت کریں گے، جبکہ دوسرے روز تقریباً 600 نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔ پہلے دن بنیادی طور پر تنظیم سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس کے بعد مستقبل کی حکمت عملی اور عوامی مسائل سے نمٹنے کے طریقہ کار پر غور کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ کنونشن کے دوسرے دن پہلے روز ہونے والی گفتگو اور مباحثے کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ اسی سیشن میں کانگریس کے قومی صدر مَلّیکارجن کھڑگے نمائندوں سے خطاب کریں گے۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی بھی کنونشن میں شرکت کریں گے اور نمائندوں کے ساتھ براہ راست گفتگو کریں گے۔سندیپ دکشت نے کہا کہ اس قومی کنونشن کی ایک اہم خصوصیت اس کا ’اوپن سیشن‘ ہونا ہے۔ ان کے مطابق یہ محض تنظیمی اجلاس نہیں بلکہ عوام کا پلیٹ فارم ہے، جہاں لوگوں کو اپنے مسائل اور سوالات براہ راست رکھنے کا موقع دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کنونشن کے دوران عوام کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات کو براہ راست سنا جائے گا اور ان کے جوابات دینے کی کوشش کی جائے گی۔ اس کے ذریعے عوامی مسائل کو بہتر طور پر سمجھنے اور ان کے حل کے لیے آئندہ کی حکمت عملی تیار کرنے پر توجہ دی جائے گی۔’رچناتمک کانگریس‘ کی جانب سے منعقد کیے جانے والے اس دو روزہ قومی کنونشن میں روزگار، تعلیم، سماجی اور معاشی انصاف کے علاوہ ماحولیات جیسے موضوعات کو خاص اہمیت دی جائے گی۔ کنونشن میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے نمائندوں کی شرکت کے ذریعے ان مسائل پر وسیع بحث اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔