سلووینیا کی راجدھانی لیوبلیانا میں واقع ہندوستانی سفارتے خانے کے احاطے کو ہندوستان مخالف عناصر نے نقصان پہنچایا ہے۔ ہندوستان نے سخت الفاظ میں اس کی مذمت کی ہے، ساتھ ہی اس واقعہ کے لیے ذمہ دار لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ وزارت خارجہ (ایم ای اے) نے کہا کہ ویانا کنونشن کے تحت سفارتی احاطوں کی سیکورٹی اور ان کے تقدس کو یقینی بنانا لازمی ہے۔ وزارت نے اس معاملے کو نئی دہلی اور لیوبلیانا دونوں سطحوں پر سلووینیا کے حکام کے سامنے مضبوطی سے اٹھایا ہے۔روسی حملے میں اوڈیسا بندرگاہ سے روانہ ہونے والے ’ایم وی گولڈن لیو‘ پر سوار 4 ہندوستانی شہری جاں بحق: وزارت خارجہوزارت خارجہ نے کہا کہ اس طرح کے قابل مذمت واقعے کے ذمہ دار افراد کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی وزارت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپیل کی کہ وہ ایسے گروپوں کی جانب سے پھیلائی جانے والی نفرت اور جھوٹے پروپیگنڈے کا نوٹس لیں۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ہندوستان سلووینیا اپنے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی سمت میں کام کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ہندوستانی سفیر نے سلووینیا کے وزیر خارجہ اور یورپی امور کے وزیر ٹونے کاجر سے ملاقات کی تھی۔ فریقین نے دوطرفہ تعاون کو آگے بڑھانے پر تبادلۂ خیال کیا تھا۔ اس کے متعلق معلومات فراہم کرتے ہوئے ہندوستانی سفارت خانے نے ’ایکس‘ پر لکھا تھا کہ ’’سفیر امت نارنگ نے وزیر ٹونے کاجر سے ملاقات کی۔ سفیر نے ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا خط انہیں سونپا۔‘‘ پوسٹ میں آگے کہا گیا کہ بات چیت کافی کامیاب رہی اور مختلف مسائل پر انتہائی خوشگوار ماحول میں گفتگو ہوئی۔رواں سال 24 جون کو سکریٹری (مغربی امور) سفیر سبی جارج نے جمہوریہ سلووینیا کے قومی دن کی تقریب میں شرکت کی تھی۔ اس کی معلومات وزارت خارجہ نے ’ایکس‘ کے ذریعے دی اور بتایا کہ سلووینیا نے سرحد پار دہشت گردی سے لے کر ہر شعبے میں ہندوستان کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اور سلووینیا کے درمیان سفارتی تعلقات 1992 میں قائم ہوئے تھے اور لیوبلیانا میں ہندوستان کا سفارت خانہ 2007 سے کام کر رہا ہے۔ ایسے میں ہندوستانی سفارتی احاطے میں توڑ پھوڑ یا اسے نقصان پہنچانے کے واقعے کو ہندوستان نے انتہائی سنجیدگی سے لیا ہے۔