4 ہائی کورٹ کو ملے 30 نئے جج، زیر التوا مقدمات کے تصفیے میں آئے گی تیزی

Wait 5 sec.

ملک کی عدالتوں میں زیر التوا معاملات کا بوجھ مسلسل ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ ایسے میں مرکزی حکومت نے عدالتی نظام کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ مرکز نے 4 ہائی کورٹ میں کل 30 ججوں کی تقرری کو منظوری دے دی ہے۔ ان تقرریوں میں سب سے زیادہ 15 جج مدراس ہائی کورٹ کو ملے ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ نئے ججوں کی تقرری سے عدالتوں میں خالی پڑی اسامیوں کو بھرنے اور طویل عرصے سے زیر التوا مقدمات کے تصفیے میں مدد ملے گی۔مرکزی وزارت قانون و انصاف کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ان 30 تقرریوں میں 20 وکلاء اور 10 جوڈیشیل افسران شامل ہیں۔ صدر جمہوریہ نے چیف جسٹس آف انڈیا اور سپریم کورٹ کالیجیم سے مشاورت کے بعد ان تقرریوں کی منظوری دی ہے۔ اب نئے جج آنے والے دنوں میں حلف اٹھا کر اپنا عہدہ سنبھال سکتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد خالی اسامیوں کو بھرنا اور زیر التوا مقدمات کے بوجھ کو کم کرنا ہے۔واضح رہے کہ 4 ہائی کورٹ میں سب سے زیادہ تقرریاں مدراس ہائی کورٹ میں ہوئی ہیں۔ یہاں کل 15 جج مقرر کیے گئے ہیں، جن میں 5 مستقل جج اور 10 ایڈیشنل جج شامل ہیں۔ 5 مستقل ججوں میں کرشنا سوامی گووندا راجن، رجنیش پتھیل، نتراجن رمیش، جی کے متھو کمار اور رام کرشنن راجیش وویکاننتھن شامل ہیں۔ دوسری جانب بار سے 8 ایڈیشنل جج مقرر کیے گئے ہیں جبکہ 7 جوڈیشیل افسران کو بھی ایڈیشنل جج کے طور پر ترقی دی گئی ہے۔کلکتہ ہائی کورٹ میں 8 نئے ایڈیشنل جج مقرر کیے گئے ہیں۔ یہ تمام بار سے آئے ہیں۔ ان تقرریوں کا سب سے بڑا مقصد عدالتوں میں خالی اسامیوں کو بھرنا اور زیر التوا مقدمات کے تصفیے کی رفتار بڑھانا ہے۔ ان ججوں میں آریک دتہ، اتروپ بنرجی، سندیپ کمار ڈے، پارتھ پرتیم رائے، سدیپ دیب، انوج سنگھ، ارجن رے مکھرجی اور رشاد میڈورا شامل ہیں۔کرناٹک ہائی کورٹ میں 6 ایڈیشنل جج مقرر کیے گئے ہیں، یہ تمام بار سے ہیں۔ ان 6 ججوں میں راگھویندر ایس شری وتسا، ہیما کلکرنی، سبرامنیا رنگا راؤ، تداگواڑی پرکاش وویکانند، پرمود بکیشور اور شانتی بھوشن ہومبے گوڑا کے نام شامل ہیں۔ دوسری جانب مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں سینئر ایڈوکیٹ امت لاہوٹی کو ایڈیشنل جج مقرر کیا گیا ہے۔ اس طرح چاروں ہائی کورٹ میں کل 30 نئی تقرریاں ہوئی ہیں۔