ٹرائی اسپیم کال رپورٹ 2026: تین مہینوں میں 24.4 بلین اسپیم کمیونیکیشنز ریکارڈ، سیکورٹی ایجنسیاں تشویش میں مبتلا

Wait 5 sec.

ہندوستان میں اسپیم کالز اور پیغامات کا مسئلہ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ ملک کی سیکورٹی ایجنسیوں اور ٹیلی کام ریگولیٹری ادارے ٹرائی کی تشویش بڑھ گئی ہے۔ حال ہی میں ٹرائی نے ایک رپورٹ جاری کی، جس کے مطابق سال 27-2026 کی پہلی سہ ماہی یعنی اپریل سے جون کے دوران ملک میں 24.4 ارب سے زیادہ اسپیم کالز اور پیغامات ریکارڈ کیے گئے۔ اگر اسے روزانہ کے حساب سے دیکھا جائے تو یہ تعداد تقریباً 26 کروڑ اسپیم کمیونیکیشن کے برابر بنتی ہے۔ یہ اعداد و شمار ہمارے موبائل نیٹورک کی سیکورٹی پر بڑا سوال کھڑا کرتے ہیں۔ٹیلی کام کمپنیوں نے اسپیم کال کرنے والوں اور جعل سازوں کو پکڑنے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) تعینات کر رکھا ہے۔ ٹرائی اور ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے تعینات کیے گئے جدید اے آئی پر مبنی اسپیم ڈٹیکشن سسٹم نے مجموعی طور پر 22.99 ارب، یعنی تقریباً 2300 کروڑ سے زیادہ مشتبہ کالز کی شناخت کی، جو عام لوگوں کو دھوکہ دینے یا پریشان کرنے کے لیے کی جا رہی تھیں۔ یہ ملک میں آنے والی کل کالز کا تقریباً 3.2 فیصد ہے۔ اس کے علاوہ، 1.44 ارب یعنی 144 کروڑ سے زیادہ مشتبہ اسپیم پیغامات کو بھی اے آئی نے بروقت فلیگ یا ٹریک کیا ہے۔ ان اسپیم کالز کو روکنے کے لیے حکومت اور ٹرائی نے مل کر اب تک کی سب سے بڑی کارروائی کی ہے۔ قوانین کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے 1.83 لاکھ سے زیادہ ٹیلی کام وسائل پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ان میں سے 1.37 لاکھ سے زیادہ نمبروں کو پہلی بار غلطی کرنے پر 15 دن کے لیے بین کر دیا گیا، جبکہ بار بار قوانین کی دھجیاں اڑانے والے 46786 کنکشنز کو براہ راست ایک سال کے لیے منقطع کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اسپیم اور دھوکہ دہی پر مبنی پیغامات بھیجنے والے 263 تھوک پیغام بھیجنے والوں کو مکمل طور پر بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی 2873 ایس ایم ایس ہیڈرز کو بھی ہمیشہ کے لیے بلاک کر دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ٹرائی نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ریلائنس جیو، ایئرٹیل اور ووڈا فون آئیڈیا جیسی بڑی کمپنیوں پر بھی کروڑوں روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے، کیونکہ یہ کمپنیاں اپنے نیٹ ورک پر اسپیم بھیجنے والوں کو روکنے میں غفلت برتتی پائی گئی تھیں۔’وائس پیک‘ کے نام پر لوگوں کو لوٹ رہی ہیں ٹیلی کام کمپنیاں، ’ٹرائی‘ نے شروع کی تحقیقاتسیکورٹی ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ بڑے پیمانے پر ہونے والی اسپیم کمیونیکیشن کے پیچھے صرف سامان فروخت کرنے والی کمپنیاں ہی نہیں ہیں، بلکہ سائبر جرائم پیشہ افراد کے بڑے گروہ بھی سرگرم ہیں۔ ان اسپیم کالز اور پیغامات کا ایک بڑا حصہ بینکنگ فراڈ، جعلی کے وائی سی اپ ڈیٹ، قرض کے جھوٹے آفرز اور یو پی آئی فراڈ سے متعلق ہوتا ہے۔ یہ جعل ساز اکثر سرکاری افسر یا معروف کمپنیوں کے نمائندے بن کر لوگوں کو کال کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف عام لوگوں کی رقم ضائع ہو رہی ہے، بلکہ ملک کے ڈیجیٹل ایکو سسٹم پر سے اعتماد بھی کم ہو رہا ہے۔