ٹرمپ نے گزشتہ ماہ ترکیہ میں نیٹو اجلاس سے واپسی پر خفیہ طیارے میں سفر کرنے کی تصدیق کر دی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی سیکیورٹی حکام نے انہیں گزشتہ ماہ ترکی میں نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد خفیہ طور پر ایک دوسرے طیارے میں منتقل کیا تھا۔ٹرمپ نے کہا کہ یہ فیصلہ خفیہ سروس اور فوج نے کیا ہے۔یہ انکشاف اس رپورٹ کے بعد کیا گیا ہے کہ ٹرمپ کو خفیہ طور پر صدارتی طیارے سے انقرہ کے ہوائی اڈے پر ایک چھوٹے فوجی جیٹ میں منتقل کیا گیا تھا۔ مبینہ طور پر آپریشن کو چھپانے کے لیے ٹرمپ کو ہوائی اڈے کے کیٹرنگ ٹرک کے اندر لے جایا گیا تھا۔ٹرمپ نے ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو میں تصدیق کی کہ سیکریٹ سروس اور فوج نے جو کہا وہ کیا۔۔ وہ چاہتے تھے کہ میں ایک مختلف پرواز، ایک مختلف ہوائی جہاز پر جاؤں۔۔ اسی لیے میں وہی کرتا ہوں جو وہ کہتے ہیں… میرا اندازہ ہے کہ وہاں کوئی خطرہ تھا لیکن میں نے واقعی اس کے بارے میں زیادہ نہیں پوچھا۔ مجھے بہت دھمکیاں مل رہی ہیں۔.@POTUS: "I go by Secret Service and the military. They wanted me to go on a different flight, a different plane… I do what they say… I guess there was a threat out there. I didn’t really ask too much about it. I get a lot of threats.” pic.twitter.com/Q5SgBpU1n1— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) August 12, 2026پس منظرسی این این نے ذرائع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ گزشتہ ماہ ترکی میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس کے آخری روز ڈونلڈ ٹرمپ کے طیارے (ایئر فورس ون) کو زمین سے مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنانے کا خطرہ تھا۔ صورتحال کے بعد امریکی حکام میں کھلبلی مچ گئی اور انہوں نے صدر کو ایک متبادل طیارے کے ذریعے ملک سے باحفاظت نکالنے کا ایک خفیہ منصوبہ تیار کیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ خطرہ اس قدر واضح اور سنجیدہ تھا کہ امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ اگر صدر ٹرمپ نے روایتی ایئر فورس ون یا اس دورے کیلیے استعمال ہونے والے قطری طیارے میں سے کسی پر بھی ملک سے پرواز کی تو ان کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کے دارالحکومت انقرہ کے ایک لگژری ہوٹل میں ایک رات قیام کیا تھا اور ہوٹل سے اجلاس کے مقامات تک کئی بار سفر کیا تھا۔امریکی فوجی اور سیکرٹ سروس کے اہلکاروں سمیت اعلیٰ حکام نے فوری طور پر ایک منصوبہ بنایا جس کے تحت چند گھنٹوں کے اندر صدر ٹرمپ کو ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے دوسرے طیارے میں منتقل کر کے ملک سے روانہ کیا گیا۔اس دورے میں وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ، وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین سمیت کئی اعلیٰ حکام صدر ٹرمپ کے ساتھ ترکی گئے تھے لیکن واپسی پر یہ سب ان کے ساتھ نہیں تھے۔سی این این کی ایک ویڈیو تجزیے سے یہ بات سامنے آئی کہ صدر کے قافلے کی ایئر پورٹ آمد سے پہلے ہی انقرہ ایئرپورٹ پر حکام نے ایئر فورس ون کے قریب ایک کیٹرنگ ٹرک کھڑا کر دیا تھا۔صدر ٹرمپ کے طیارے میں سوار ہونے کے بعد کیٹرنگ ٹرک کے کنٹینر کو نیچے کیا گیا اور وہ بڑے طیارے سے ہٹ کر ایک چھوٹے طیارے (C-32A) کے پاس جا کر رک گیا۔اب صدر کے بغیر بڑا طیارہ مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 8:44 پر روانہ ہوا جو اس چھوٹے طیارے کے پاس سے گزرا جس کے اندر صدر ٹرمپ موجود تھے۔ اس کے ایک منٹ بعد چھوٹے طیارے نے بھی ٹیکسی وے پر سفر شروع کر دیا۔امریکی حکام کے مطابق جب طیارے بدلنے کا وقت آیا تو وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ سمیت دیگر عملہ، فوجی اہلکار اور میڈیا کے نمائندے نیلے اور سفید رنگ کے بڑے بوئنگ 747 طیارے میں ہی سوار رہے۔ طیارے میں سوار اکثر مسافروں کو اس بات کی خبر ہی نہیں تھی کہ صدر ٹرمپ اس پرواز میں موجود نہیں ہیں۔