بند گوبھی اور ہری مرچ کے بعد گائے کے گوشت سے بھی پرہیز

Wait 5 sec.

واشنگٹن : امریکا میں بند گوبھی اور ہری مرچ کے بعد اب شہریوں کو گائے کا گوشت خریدنے سے گریز کرنے کی ہدایت جاری گئی ہے۔فوڈ سیفٹی کے ادارے (ایف ایس آئی ایس) نے ارجنٹائن سے درآمد شدہ تقریباً 29 ہزار 628 پاؤنڈ گائے کے گوشت کی پروڈکٹس پر الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو ان کے استعمال سے گریز اور احتیاط کرنے کی ہدایت کی ہے۔ارجنٹینا سے درآمد کیا گیا مذکورہ گوشت سرکاری سطح پر کیے جانے والے امریکی محکمہ زراعت (یو ایس ڈی اے) کے معائنے کے بغیر ہی مارکیٹ میں سپلائی ہوچکا تھا، وفاقی فوڈ سیفٹی حکام نے تقریباً 30 ہزار پاؤنڈ گوشت کو فوری طور پر واپس منگوانے کا اعلان کردیا۔یہ ریکال فلوریڈا کے شہر ایونٹورا میں قائم کمپنی کورٹے ارجنٹینو یو ایس اے، ایل ایل سی نے شروع کی ہے، متاثرہ بیف کی مختلف بون لیس کٹس فلوریڈا اور ٹیکساس میں تھوک فروشوں اور ریٹیلرز کو فراہم کی گئی تھیں۔حکام کے مطابق متاثرہ گائے کا گوشت ارجنٹینا کی مقامی کمپنی نے تیار کرکے سپلائی کیا تھا، یہ گوشت 15 سے 20 مئی 2026 کے درمیان امریکا بھیجا گیا جبکہ اس پر 15 سے 20 ستمبر 2026 تک استعمال یا فریز کرنے کی تاریخ درج ہے۔صارفین کیا کریں؟حکام نے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ اگر انہوں نے حال ہی میں مذکورہ بیف خریدا ہے تو فریج اور فریزر میں موجود گوشت کا معائنہ کریں اور اس کی تیاری کی تاریخ، اسٹیبلشمنٹ نمبر اور شپنگ مارک کو متاثرہ مصنوعات سے ملا کر چیک کریں۔اگر گوشت متاثرہ مصنوعات میں شامل ہو تو اسے ہرگز استعمال نہ کریں، اسے بند کچرے کے تھیلے میں ڈال کر تلف کیا جائے یا متعلقہ دکان پر واپس کرکے رقم واپس لی جائے۔حکام کے مطابق اس گائے کے گوشت سے متعلق اب تک کسی بیماری یا صحت کو نقصان پہنچنے کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم اگر کسی شخص کو متاثرہ گوشت کھانے کے بعد بیماری کے حوالے سے تشویش ہو تو اسے فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے۔مزید پڑھیں : بند گوبھی کے بعد ہری مرچیں بھی خطرناک قرار، 27 امریکی ریاستیں متاثریاد رہے کہ امریکا میں بند گوبھی کے پتوں (آئس برگ لیٹس) اور ہری مرچوں کے سبب عوامی صحت کے لیے مسائل پیدا کردیے ہوگئے تھے۔میکسیکو سے درآمد کی جانے والی جلاپینو مرچوں سے پیٹ کے انفیکشنز سے ہزاروں افراد بیمار ہوگئے ہیں۔امریکہ میں ان آلودہ بند گوبھی کے پتوں اور ہری مرچوں سے پھیلنے والی بیماریاں سائیکلو اسپوریاسس اور سالمونیلا ہیں جن سے اب تک ہزاروں افراد متاثر ہوچکے ہیں اور متعدد کو اسپتال منتقل کرنا پڑا ہے۔