’خواتین ریزرویشن بل کو حدبندی سے بلا وجہ کیوں جوڑنا چاہتے ہیں؟‘ بل کی بلا شرط حمایت پر کرن رجیجو کو راہل گاندھی کی دوٹوک

Wait 5 sec.

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی کی خواتین سے متعلق ’ایکس‘ پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ کو ری پوسٹ کرتے ہوئے مرکزی وزیر کرن رجیجو نے لکھا کہ ’’یہ کانگریس پارٹی کی جانب سے ایک مثبت پیغام معلوم ہوتا ہے۔ خواتین کے تئیں راہل گاندھی کی سوچ میں واضح تبدیلی نظر آ رہی ہے۔ اب مجھے امید ہے کہ کانگریس پارٹی ریزرویشن بل کی بغیر کسی شرط کے حمایت کرے گی۔‘‘This seems to be a positive message from the Congress Party. There's a visible change of heart in Shri Rahul Gandhi Ji about the Women. Now, I hope Congress Party will support the Women's Reservation Bill unconditionally. https://t.co/nSzH2C6Orf— Kiren Rijiju (@KirenRijiju) August 8, 2026راہل گاندھی نے کرن رجیجو کی ’ایکس‘ پوسٹ کے جواب میں لکھا کہ ’’رجیجو جی، پارلیمانی امور کے وزیر ہونے کے ناطے آپ سے بہتر یہ کون جانتا ہوگا، خواتین ریزرویشن بل 2023 میں ہی کانگریس کی مکمل حمایت کے ساتھ متفقہ طور پر پاس ہو چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ 3 سال گزر جانے کے بعد بھی وہ نافذ کیوں نہیں ہوا اور اب آپ اسے حد بندی سے بلا وجہ کیوں جوڑنا چاہتے ہیں؟ 2023 کا قانون نافذ کیجیے۔ بغیر کسی شرط کے۔‘‘रिजिजू जी, संसदीय कार्य मंत्री होने के नाते आपसे बेहतर यह कौन जानता होगा - महिला आरक्षण विधेयक 2023 में ही सर्वसम्मति से पारित हो चुका है, कांग्रेस के पूर्ण समर्थन के साथ।सवाल यह है कि तीन साल बाद भी वह लागू क्यों नहीं हुआ और अब आप उसे परिसीमन से बेवजह क्यों जोड़ना चाहते हैं?… https://t.co/1HeBna8v8L— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) August 8, 2026واضح رہے کہ راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں کہا تھا کہ ’’ہندوستانی خواتین کی توانائی قید ہے۔ اسے اپنے اظہار کی اجازت نہیں دی جاتی، اسے خواب دیکھنے اور تصور کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ میرے نزدیک کوئی بھی ملک اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک اس کی خواتین اپنے خیالات اور صلاحیتوں کا اظہار نہ کر سکیں۔ اور میرے خیال میں میری سیاست کا ایک بڑا حصہ، اور اس ملک کی سیاست کا ایک بڑا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ لوگوں کو یہ سمجھایا جائے کہ خواتین کے اظہار کے بغیر ہمارا ملک محدود اور نامکمل ہے۔‘‘"The energy of India's women is trapped. It is not allowed to express itself. It is not allowed to imagine. For me, no country can be successful if its women are not expressing themselves.And I think a lot of my politics, and a lot of what politics should be in this country, is… pic.twitter.com/qo3P42kurY— Congress (@INCIndia) August 7, 2026قابل ذکر ہے کہ کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں نے خواتین ریزرویشن بل کی حمایت کی ہے، لیکن وہ حد بندی کے عمل کی مخالفت کرتی رہی ہیں۔ اسی عمل کے تحت پارلیمنٹ کے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا میں نشستوں کی تعداد بڑھانے کی تجویز ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا مطالبہ رہا ہے کہ خواتین کے تحفظات کو حد بندی کے عمل سے الگ کیا جائے، تاکہ خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کو حد بندی کا عمل مکمل ہونے کی شرط سے نہ جوڑا جائے۔