وائٹ ہاؤس میں نئے بال روم کی تعمیر پر ٹرمپ کو عدالتی جھٹکا

Wait 5 sec.

واشنگٹن (08 اگست 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس میں نئی تعمیر کے معاملے پر ایک اور عدالتی دھچکا لگ گیا۔امریکا کی ایک وفاقی اپیل عدالت نے جمعہ کو ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو حکم دیا کہ وہ وائٹ ہاؤس کے منہدم شدہ ایسٹ ونگ کی جگہ پر 400 ملین ڈالر کے بال روم کی تعمیر کو روک دے۔عدالت نے وائٹ ہاؤس میں نئے بال روم کی تعمیر کو غیر قانونی قرار دیا، واشنگٹن ڈی سی سرکٹ کورٹ آف اپیلز نے 2-1 کی اکثریت سے فیصلہ سنایا۔امریکی کورٹ آف اپیلز فار دی ڈسٹرکٹ آف کولمبیا سرکٹ نے فیصلے میں کہا ’’ہر صدر وائٹ ہاؤس کا ایک عارضی مکین ہوتا ہے، مالک نہیں، اور وہ کانگریس کی منظوری کے بغیر اس کی بنیادی نوعیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔‘‘ٹرمپ کا شدید رعملعدالتی فیصلے پر صدر ٹرمپ نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے قومی سطح پر شرمندگی قرار دیا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس کی مرمت اور سیکیورٹی بہتر بنانے کے لیے نئے منصوبے کی اشد ضرورت ہے اور انھیں یہ اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔صدر ٹرمپ کے مطابق منصوبے میں وائٹ ہاؤس کی سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے ساتھ چھت پر ایک بڑے ڈرون پورٹ کی تعمیر کی تجویز بھی شامل ہے۔ٹرمپ نے عدالتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وائٹ ہاؤس کی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کا فیصلہ اعلیٰ ترین سطح پر قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ فیصلے میں ان ججز کا کردار ہے جنھیں سابق صدور براک اوباما اور جو بائیڈن نے تعینات کیا تھا۔ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے متعلق عدالتی فیصلے کو قومی سطح پر باعثِ شرمندگی قرار دیتے ہوئے اپنے تعمیراتی اور سیکیورٹی منصوبے پر عمل درآمد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔