مکہ دفاعی معاہدے پر او آئی سی کا رد عمل

Wait 5 sec.

جدہ (08 اگست 2026): اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مشترکہ دفاع سے متعلق ’’مکہ معاہدے‘‘ پر دستخط کا خیر مقدم کیا ہے۔او آئی سی کے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو اہم تزویراتی اقدام قرار دیا، اور کہا کہ مکہ ایگریمنٹ تینوں ملکوں میں علاقائی، بین الاقوامی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا عکاس ہے۔تنظیم کی جانب سے ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں او آئی سی کے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے کہا ’’یہ معاہدہ خطے اور پوری مسلم دنیا میں سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے ایک بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔‘‘#OIC Secretary-General Welcomes the Mecca Agreement on Joint Defense between #saudiarabia, #Pakistan and #Türkiye pic.twitter.com/R2CuclSGJP— OIC (@OIC_OCI) August 7, 2026او آئی سی کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ بڑھتے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے اور رکن ممالک میں یکجہتی کا مشترکہ عزم ہے۔ سیکریٹری جنرل نے تینوں ملکوں کی دانش مندانہ قیادت اور مسلسل کوششوں کی تعریف کی، اور کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں امن، خوش حالی اور عالمی برادری کے لیے مثبت نتائج کا باعث بنے گا۔’ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا‘ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کردیےادھر قطر کے سابق وزیرِ اعظم حمد بن جاسم بن جابر آل ثانی نے بھی اس معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے ’’ایک اہم معاہدہ اور امید کا باعث بننے والا قدم‘‘ قرار دیا۔