تہران (08 اگست 2026): ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے کبھی استعفیٰ نہیں دیا۔ایرانی صدر نے کہا میں نے کبھی استعفیٰ نہیں دیا، اگر استعفیٰ دینے کی ضرورت پڑی تو واضح اعلان کروں گا۔ انھوں نے کہا یورپی ملکوں سے ماضی کے مذاکرات سپریم لیڈر کی منظوری سے کیے گئے تھے، یہ تاثر درست نہیں کہ ایرانی قیادت مذاکرات کی مخالف تھی۔مسعود پزشکیان نے کہا کہ ہم بہ خوبی آگاہ ہیں کہ ملکی بقا کے لیے کب لڑنا ہے اور کب امن کا راستہ اختیار کرنا ہے، ایرانی حکومت مسلح افواج کے ساتھ مکمل ہم آہنگی سے کام کر رہی ہے، ہم ملک کا دفاع کرنے والوں کی حمایت اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ جون میں امریکا کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر ملک میں جو لوگ تنقید کر رہے ہیں، اور اس معاہدے کو ناکامی قرار دے رہے ہیں، وہ دراصل اسرائیل کے بیانیے کو دہرا رہے ہیں۔ٹرمپ کے اعلیٰ ترین جنرل نے ایران جنگ سے نکلنے کا مشورہ دے دیاانھوں نے جمعرات کو قوم سے خطاب میں کہا ’’ہم اس بات کا مضبوطی سے دفاع کریں گے جو ہم نے مفاہمت کی یادداشت کے طور پر تحریر کیا ہے۔ جو لوگ اسے ناکامی قرار دینا چاہتے ہیں، وہ ناانصافی کر رہے ہیں، اور یہی عین وہ چیز ہے جو اسرائیل چاہتا ہے۔ جان بوجھ کر یا ان جانے میں، وہ اسرائیل کا پیغام پہنچا رہے ہیں۔‘‘پزشکیان نے کہا کہ ایران نے مفاہمتی یادداشت کی کسی بھی شق میں کوئی سمجھوتا نہیں کیا، اور ناقدین کو چیلنج کیا کہ وہ ایسی ایک بھی شق کی نشان دہی کریں جس میں تہران نے ’’پسپائی اختیار کی‘‘ ہو۔ انھوں نے کہا ’’ہمیں مسلسل یہ کیوں کہنا چاہیے کہ ہمیں لڑنا ہے؟ یہی تو اسرائیل چاہتا ہے۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ جنگ جاری رہے۔‘‘