لندن / میڈرڈ : یورپ کے مختلف حصوں میں دو دہائیوں سے زائد عرصے بعد مکمل سورج گرہن کا نایاب فلکیاتی منظر دیکھا گیا، جس نے لاکھوں افراد کو اپنی جانب متوجہ کرلیا۔12اگست 2026 کو ہونے والے اس سورج گرہن کا آغاز شمالی روس اور آرکٹک کے شمالی علاقوں سے ہوا جس کا نظارہ لاکھوں لوگوں نے کیا۔گرہن کا مکمل مرحلہ گرین لینڈ، آئس لینڈ، اسپین اور پرتگال کے بعض محدود علاقوں میں نمایاں ہوا، جبکہ یورپ کے بیشتر حصوں سمیت برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور سوئیڈن میں سورج جزوی طور پر چاند کے پیچھے چھپ گیا۔اسپین میں نایاب منظر دیکھنے کے لیے شہریوں اور سیاحوں کی بڑی تعداد مختلف شہروں اور سیاحتی مقامات پر جمع ہوئی۔ میڈرڈ اور بارسلونا سمیت بعض علاقوں میں سورج کا تقریباً 99 فیصد حصہ چاند کے پیچھے چھپ گیا، جس سے آسمان پر غیر معمولی منظر دکھائی دیا۔ تاہم ان شہروں میں مکمل کے بجائے تقریباً مکمل جزوی سورج گرہن دیکھا گیا۔یورپ کے علاوہ کینیڈا، امریکا کے شمالی علاقوں اور شمالی افریقا کے بعض حصوں میں بھی سورج گرہن جزوی طور پر نظر آیا۔ماہرین فلکیات نے شہریوں کو خبردار کیا کہ سورج گرہن کو براہِ راست آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش نہ کی جائے۔ ماہرین کے مطابق مشاہدے کے لیے تصدیق شدہ سولر ایکلپس چشمے یا مناسب سولر فلٹرز کا استعمال ضروری ہے، کیونکہ عام دھوپ کے چشمے سورج کی نقصان دہ شعاعوں سے آنکھوں کو محفوظ نہیں رکھتے۔12 اگست کا یہ فلکیاتی واقعہ یورپ کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ 1999 کے بعد براعظم کے کئی علاقوں میں مکمل سورج گرہن کا ایسا نمایاں نظارہ پہلی مرتبہ دیکھنے کو ملا۔ رواں سال یہ دوسرا سورج گرہن بھی ہے۔