نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اجے ماکن نے دہلی کی فضائی آلودگی سے متعلق تازہ تجزیہ جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ موسمی اثرات کو اعداد و شمار سے الگ کرنے کے بعد گزشتہ سال کے اعداد و شمار سے موازنہ رکھنے والے دہلی کے تمام 30 فضائی نگرانی مراکز کی صورتحال گزشتہ سال سے زیادہ خراب ہے۔ ان کے مطابق یہ کسی ایک علاقے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے شہر میں پھیلا ہوا بگاڑ ہے۔اجے ماکن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ویڈیو میں بتایا کہ ان کا تجزیہ 11 اگست صبح 10 بجے سے 12 اگست صبح 10 بجے تک کے اعداد و شمار پر مبنی ہے، جبکہ اس کا موازنہ گزشتہ سال 5 اگست سے 19 اگست 2025 کے اوسط سے کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے اعداد و شمار میں دہلی کا اوسط اے کیو آئی 93 ہے، لیکن موسمی اثرات الگ کرنے کے بعد یہی اے کیو آئی 95 تک پہنچ جاتا ہے۔ ان کے مطابق بظاہر نظر آنے والی بہتری کے باوجود حقیقی فضائی آلودگی زیادہ ہے، نیز، موسمی اثرات الگ کرنے کے بعد باقی رہنے والی آلودگی شہر کی حقیقی آلودگی کی بہتر تصویر پیش کرتی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ دہلی کی اپنی پی ایم 10 آلودگی مسلسل 74 دن سے گزشتہ سال کے انہی دنوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ مئی کے بعد دستیاب اعداد و شمار میں ایک بھی دن ایسا نہیں آیا جب یہ سطح گزشتہ سال سے کم رہی ہو، جبکہ ایک دن کا اعداد و شمار دستیاب نہیں ہے۔ ان کے مطابق روزانہ کا اوسط فرق تقریباً 14 مائیکروگرام فی مکعب میٹر رہا اور رواں سال کے 223 دنوں میں سے 150 دن ایسے رہے جن میں پی ایم 10 گزشتہ سال سے زیادہ ریکارڈ ہوئی۔اجے ماکن نے مزید کہا کہ دہلی کے 44 میں سے تمام 44 مراکز پر پی ایم 10 کی سطح عالمی ادارۂ صحت کی مقررہ حد سے زیادہ رہی، جبکہ 44 میں سے 41 مراکز پر پی ایم 2.5 بھی محفوظ حد سے اوپر ریکارڈ کیا گیا۔ ان کے مطابق موسمی اثرات الگ کرنے کے بعد بھی دہلی کی اپنی پی ایم 2.5 سطح عالمی ادارۂ صحت کی محفوظ حد سے 2.3 گنا زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ دہلی کا اے کیو آئی گزشتہ روز کے مقابلے میں 10 پوائنٹس بڑھا ہے اور بیشتر فضائی نگرانی مراکز کی صورتحال بھی ایک دن پہلے کے مقابلے میں مزید خراب ہوئی ہے۔ اجے ماکن کے مطابق یونیورسٹی آف شکاگو کے ایئر کوالٹی لائف انڈیکس کے اندازے میں دہلی کی فضائی آلودگی لوگوں کی اوسط عمر میں کئی سال کی کمی کا سبب بنتی ہے۔CPCB सूचकांक में दिल्ली की हवामौसम का असर हटाने के बाद भी दिल्ली के 30 में से सभी 30 स्टेशन पिछले साल के इन्हीं दिनों से बदतर हैं। यह किसी एक इलाक़े की बात नहीं, पूरे शहर की है।• शहर AQI 93, ‘संतोषजनक’ (population weighted 95)• सबसे ख़राब: Wazirpur, मौसम हटाने पर AQI 138… pic.twitter.com/V8J7jHRSoj— Ajay Maken (@ajaymaken) August 12, 2026انہوں نے بتایا کہ اس روز شہر میں سب سے خراب صورتحال آنند وہار میں رہی، جہاں اے کیو آئی 224 ریکارڈ کیا گیا اور یہ خراب زمرے میں رہا۔ ان کے مطابق وہاں پی ایم 10 آلودگی کا اہم سبب ہے اور موسمی اثرات الگ کرنے کے بعد بھی آنند وہار کی ہوا گزشتہ سال کے مقابلے میں 15 پوائنٹس زیادہ خراب رہی۔