ایرانی حکومت نے پیٹرول مہنگا کرنے کا منصوبہ مؤخر کر دیا

Wait 5 sec.

تہران (10 اگست 2026): ایران میں پارلیمنٹ کے دباؤ پر حکومت نے پیٹرول مہنگا کرنے کا منصوبہ مؤخر کر دیا ہے، اراکین پارلیمنٹ نے پیٹرول قیمتیں بڑھانے کی مخالفت کی ہے اور سبسڈی نظام بدلنے کا مطالبہ کیا ہے۔ایرانی پارلیمںٹ کے ترجمان عباس گودرزی کے مطابق پارلیمانی ارکان نے پیٹرول کی قیمتیں بڑھانے کی بہ جائے ایندھن کے کوٹے کو قومی شناختی نمبروں سے منسلک کرنے سمیت دیگر اقدامات تجویز کیے ہیں۔مہر نیوز ایجنسی کے مطابق ارکانِ پارلیمنٹ نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ قیمتوں میں اضافے کی بہ جائے پیٹرول کی طلب کو کم کرنے کی کوشش کی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ قیمتوں میں اضافے کے باوجود طلب میں کمی نہیں آئی ہے، ایک تہائی پیٹرول اب بھی فیول کارڈز کے ذریعے خریدا جا رہا ہے، جنگی حالات اور ناکہ بندی نے درآمدی پیٹرول تک رسائی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔باقر ذوالقدر کا استعفیٰ، جنرل محسن رضائی سربراہ نیشنل سیکیورٹی کونسل مقررواضح رہے کہ ایران کو طویل عرصے سے پیٹرول کی رسد اور طلب کے درمیان فرق کا سامنا ہے۔ علاقائی اور بین الاقوامی پابندیوں کے باعث پیٹرول درآمد کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے اور بعض صورتوں میں یہ تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔