امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے اسرو کو اپنے ’مون بیس‘ پروگرام میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ یہ پروگرام آرٹیمس مشن کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد چاند پر انسانوں کو طویل عرصے تک بھیجنے اور وہاں کام کرنے کی تیاری کرنا ہے۔ اس سے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان خلا میں تعاون مزید بڑھ سکتا ہے۔ یہ بات ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہونے والی ایک اہم میٹنگ میں سامنے آئی۔ یہ میٹنگ بنگلورو میں اسرو کے ہیڈکوارٹر میں ہوئی۔ اس میں دونوں ممالک کے عہدیداروں نے خلائی سائنس اور انسانوں کو خلا میں بھیجنے سے متعلق کام پر تبادلۂ خیال کیا۔ اسی دوران ناسا نے اسرو کو مون بیس پروگرام میں شامل ہونے کی بھی دعوت دی۔NASA has invited @ISRO to join its Moon Base program, deepening the U.S.-India deep space partnership! The news came as @StateDept and @NASA co-chaired the 9th Civil Space Joint Working Group in Bengaluru, advancing the - TRUST initiative. https://t.co/qLbhitmHCO— Ambassador Sergio Gor (@USAmbIndia) August 11, 2026دراصل ناسا چاند پر ایسے بیس بنانے کی تیاری کر رہا ہے، جہاں انسان مستقبل میں طویل عرصے تک مقیم رہ سکیں گے۔ اس کے لیے پہلے روور، روبوٹ اور دیگر آلات چاند پر بھیجے جائیں گے۔ ان چیزوں کے ذریعہ چاند کی زمین اور وہاں موجود چیزوں کے حوالے سے اطلاعات جمع کی جا سکیں گی۔ آرٹیمس مشن کے تحت ناسا انسانوں کو دوبارہ چاند پر بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ایسی ٹیکنالوجی تیار کی جا رہی ہے، جو مستقبل میں چاند پر طویل مشن میں کام آئے گی۔ چاند کے جنوبی قطب پر جمی برف بھی ان مشنز کے لیے کافی اہم مانی جاتی ہے۔اسرو نے رقم کردی تاریخ! ’ باہو بلی‘ راکٹ سے سب سے وزنی سیٹلائٹ ’بلیو برڈ بلاک-3‘ لانچہندوستان پہلے ہی چاند پر پہنچنے کی اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کر چکا ہے۔ 2023 میں چندریان-3 نے چاند کے جنوبی قطب کے قریب کامیاب لینڈنگ کی تھی۔ اس کے ساتھ ہندوستان چاند پر سافٹ لینڈنگ کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن گیا تھا۔ اس کے روور نے چاند کی سطح پر کئی تحقیقات کی تھیں۔ ہندوستان کے اپنے بھی بڑے خلائی منصوبے ہیں۔ اسپیس وژن 2047 کے تحت ہندوستان کا ہدف 2040 تک انسانوں کو چاند پر بھیجنا ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستان اپنا ہندوستانی خلائی اسٹیشن بنانے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس کا پہلا ماڈیول 2028 تک بھیجنے کا ہدف ہے۔قابل ذکر ہے کہ ناسا اور اسرو کی شراکت داری نئی نہیں ہے۔ دونوں ایجنسیوں نے ’نثار‘ سیٹلائٹ مشن پر ساتھ کام کیا تھا۔ اسے جولائی 2025 میں لانچ کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ہندوستانی خلائی مسافر گروپ کیپٹن شبھانشو شکلا 2025 میں ایکسیوم-4 مشن کے ذریعے انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن گئے تھے۔ اب مون بیس میں ساتھ کام کرنے سے ہندوستان اور امریکہ کی شراکت داری چاند کی کھوج میں بھی آگے بڑھ سکتی ہے۔