آسام سے لے کر کشمیر تک سیلاب اور شدید بارش کے سبب بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ گجرات کے کئی علاقے شدید بارش ہونے کے بعد زیر آب آ گئے ہیں۔ سیلاب کی وجہ سے سب سے زیادہ تباہی آسام میں ہوئی ہے۔ جہاں جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں۔ خبر کے مطابق آسام میں اب تک 82 اموات ہو چکی ہیں۔ آسام کے 5 اضلاع شیو ساگر، گولا گھاٹ، جور ہاٹ، ناگون اور چرائیدیو میں تقریباً 2 لاکھ افراد سیلاب اور شید بارش کی وجہ سے متاثر ہیں اور بے حد پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ’آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی‘ (اے ایس ڈی ایم اے) کے مطابق جمعہ کے روز سیلاب کی وجہ سے مزید 2 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ اطلاع کے مطابق سیلاب میں کسی کے لاپتہ ہونے کی خبر نہیں ہے۔مہاراشٹر میں بارش: گھروں میں پانی داخل، کئی گاؤں کا رابطہ منقطع، 7 اضلاع میں سیلاب والے حالات، انتظامیہ الرٹسیلاب متاثرہ 5 اضلاع کے 17 ریونیو کے علاقے اور 379 گاؤں میں اثرات نمایاں ہیں۔ جہاں تقریباً 2 لاکھ افراد پر مشتمل آبادی سیلاب کی زد میں ہے اور سب سے زیادہ متاثر چرائیدیو ضلع ہے۔ ریاست میں 54 امدادی کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ 26 مراکز امداد کی تقسیم کے لیے چلائے جا رہے ہیں۔ این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف اور دیگر ایجنسیاں مسلسل راحت رسانی کے کاموں میں مصروف ہیں۔ دوسری جانب وادی کشمیر میں مسلسل موسلا دھار بارش کے درمیان بالائی علاقوں میں بادل پھٹنے کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ جنوبی کشمیر کے شوپیاں ضلع کے کئی گاؤں اچانک آئے سیلاب کی زد میں ہیں۔ ’ریاستی ڈیزاسٹر رسپانس فورس‘ (ایس ڈی آر ایف) کی ٹیم راحت رسانی کے کام جنگی پیمانے پر چلا رہی ہے۔ سیلابی پانی سے کئی مکانات، دیگر املاک اور زرعی اراضی کو نقصان پہنچا ہے۔ وہیں گجرات میں بھی مانسون کا قہر جاری ہے۔ واسو کا مرکزی بازار ہو یا کھیڑا ضلع کے رہائشی علاقے، چہار جانب پانی ہی پانی نظر آرہا ہے۔ گھروں اور دکانوں کے اندر بھی پانی داخل ہو چکا ہے۔ آنند میں ایس پی آفس کے قریب بارش کے پانی میں کھیل رہے 3 بچے پانی کے تیز بہاؤ میں بہہ گئے۔ فائر بریگیڈ کی ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تینوں بچوں کو بچا لیا۔ لیکن اسپتال میں علاج کے دوران معصوم بچی پریتی بین سولنکی نے دم توڑ دیا ہے۔ ہفتے کے روز کھیڑا ضلع میں شدید بارش کا امکان ہے، جس کے مدنظر انتظامیہ الرٹ پر ہے۔