چھ ہفتے قبل ایلون مسک تاریخ میں اب تک گزرنے والے سب سے امیر شخص تھے۔ 16 جون کو، یعنی اسپیس ایکس کی 12 جون 2026 کو ہونے والی ابتدائی عوامی پیشکش مکمل ہونے کے تین دن بعد، اس کی مارکیٹ ویلیو تاریخ کی بلند ترین سطح 2.64 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی تھی، جب کہ مسک کی دولت تقریباً 1.45 ٹریلین ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچی۔امریکی میڈیا کے مطابق ٹیسلا کے مالک ایلون مسک کو بڑا مالی دھچکا پہنچا ہے، اور ان کی دولت میں 712 ارب ڈالر کی ریکارڈ کمی ہوئی۔ 16 جون کو مسک کی دولت تقریباً 1.45 ٹریلین ڈالر تھی، 23 جولائی کو بلومبرگ بلینئر انڈیکس کے مطابق وہ تقریباً 738 بلین ڈالر رہ گئی۔ یعنی تقریباً پانچ ہفتوں میں ان کی دولت میں تقریباً 712 بلین ڈالر کی کمی ہوئی۔رپورٹ کے مطابق پانچ ہی ہفتوں کے اندر ایلون مسک کی، 650 سے 700 ارب ڈالر کے درمیان دولت بخارات بن کر اڑ گئی۔ امریکی میڈیا کے مطابق اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے شیئرز میں بڑی گراوٹ کے باعث ان کی دولت میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔تاہم فی الحال وہ اب بھی بڑے فرق سے کرۂ ارض کے سب سے امیر شخص ہیں اور دوسرے امیر ترین شخص سے تقریباً 650 ارب ڈالر آگے ہیں۔اسپیس ایکس کی اسٹاک مارکیٹ میں آمد تاریخ کی سب سے بڑی ’آئی پی او‘ تھی، اور مارکیٹ نے اسی حساب سے اسے پذیرائی دی، حصص ابتدائی پیشکش کی قیمت سے کہیں اوپر فروخت ہوئے اور راکٹ اور سیٹلائٹ بنانے والی اس بڑی کمپنی کی قدر چند ہی دنوں میں 2.6 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گئی۔لیکن 16 جون کی بلند ترین سطح سے 23 جولائی کو کاروبار کے اختتام تک حصص میں 41.41 فی صد کمی آچکی ہے، جو 201.80 ڈالر سے گر کر 118.24 ڈالر پر آ گیا۔ مارکیٹ ویلیو اب 895.24 ارب ڈالر ہے۔ بلند ترین سطح سے 1 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کی مارکیٹ ویلیو ختم ہو چکی ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق جولائی کا مہینہ اسپیس ایکس کے لیے بھاری ثابت ہوا، اور ایلون مسک صرف چند ہفتوں تک ہی ٹریلینیئر رہ سکے ہیں۔اس گراوٹ کے اسباب یکے بعد دیگرے سامنے آئے، 16 جولائی کو اسٹار شپ کی لانچ میں تاخیر نے مارکیٹ کے بعد کے اوقات میں اسٹاک کو متاثر کیا۔ اور مصنوعی ذہانت سے منسلک کمپنیوں کی قدر کے بارے میں وسیع تر نظرثانی نے بھی مارکیٹ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ 21 جولائی تک اسپیس ایکس کچھ دیر کے لیے 120 ڈالر فی حصص سے نیچے چلا گیا اور مسلسل سات سیشنز میں کمی کے بعد اپنی IPO قیمت سے بھی نیچے آ گیا۔ دوسری طرف شارٹ سیلرز نے اس گراوٹ سے 15.5 ارب ڈالر کا منافع کمایا ہے۔ٹیسلا کے حصص میں کمی نے بھی مسک کی دولت کو متاثر کیا۔ 22 جولائی کو ٹیسلا نے دوسری سہ ماہی کی 28.24 ارب ڈالر آمدنی رپورٹ کی، جو اندازوں سے زیادہ تھی۔ کمپنی نے ریکارڈ 4 لاکھ 80 ہزار 126 گاڑیاں بھی فراہم کیں۔تاہم کمپنی کا منافع توقعات سے کہیں کم رہا۔ فی حصص آمدنی 0.33 ڈالر رہی، جبکہ اندازہ 0.5367 ڈالر تھا۔ آپریٹنگ آمدنی بھی 56.88 فیصد کم ہوکر 398 ملین ڈالر رہ گئی۔ ٹیسلا کے آپریٹنگ اخراجات 47 فیصد بڑھ کر 4.35 ارب ڈالر ہوگئے۔ اس کی بڑی وجہ مصنوعی ذہانت، روبوٹیکسی، آپٹیمس اور ڈوجو پر بڑھتے ہوئے اخراجات تھے۔23 جولائی کو ٹیسلا کے حصص 14.52 فیصد گر کر 319.69 ڈالر پر بند ہوئے۔ گزشتہ ایک ماہ میں حصص 16.23 فیصد اور رواں سال اب تک 28.91 فیصد گر چکے ہیں۔ ٹیسلا کی موجودہ مارکیٹ ویلیو 1.20 ٹریلین ڈالر ہے۔