تہران(30 جولائی 2026): ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے امریکا کے خلاف جوابی کارروائیوں کے دوران شدید نقصان اٹھانے والے امریکی فوجی اثاثوں کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔آئی آر جی سی کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کے مطابق 8 جولائی سے 22 جولائی تک جاری رہنے والے پندرہ روزہ طاقتور ایرانی حملوں میں امریکی عسکری تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔ترجمان کا کہنا ہے کہ ریڈار اور فضائی دفاعی شعبے میں 7 کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، 3 سیٹلائٹ مواصلاتی سسٹمز، پیٹریاٹ ڈیفنس کے 6 ریڈار، ابتدائی وارننگ اور نگرانی کے متعدد ریڈار سسٹمز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد پیٹریاٹ نظام کو اس حد تک کمزور کر دیا گیا ہے کہ اب ایرانی میزائل اور ڈرون بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے اہداف تک پہنچ رہے ہیں۔ترجمان کے مطابق لاجسٹک اور معاونت کے شعبے میں لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی مرمت کے 6 مراکز، 3 سپورٹ اور لاجسٹک تنصیبات، ایندھن کے 12 بڑے ذخائر، ہتھیاروں اور اسپیئر پارٹس کے 17 گودام اور میزائلوں کے 6 ذخیرہ خانے تباہ کیے گئے تاکہ امریکی آپریشنل صلاحیتوں کو کمزور کیا جا سکے۔آپریشنل انفرااسٹرکچر کے شعبے میں ایم کیو-9 ڈرونز کے 6 ہینگرز، ایف-15 لڑاکا طیاروں کی تیاری کی تنصیب، 8 نئے ڈرونز پر مشتمل ہینگر، طیارہ بردار جہاز کا رلنگ پلیٹ فارم، پی-8 طیارے کا ہینگر، ہیمارس میزائل پلیٹ فارمز، پیٹریاٹ ڈیفنس کے 4 کمپلیکسز اور ایمیزون سے وابستہ مصنوعی ذہانت کا مرکز اور ڈیٹا پروسیسنگ ہب بھی شدید نقصان کا شکار ہوئے۔فضائی کارروائیوں کے شعبے میں زمین پر کھڑے 11 لڑاکا طیارے اور ہیلی کاپٹر، 17 جاسوس و آپریشنل ڈرونز، سی-17 ٹرانسپورٹ طیارہ اور فضائی حدود میں ریفیولنگ کرنے والے 8 طیارے بھی اس زد میں آئے ہیں۔