سپریم کورٹ نے 29 جولائی کو کوئلہ بلاک الاٹمنٹ معاملہ میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیر اعظم آنجہانی ڈاکٹر منموہن سنگھ کو سمن جاری کرنے سے متعلق خصوصی سی بی آئی عدالت کے 2015 کے حکم کو منسوخ کر دیا۔ عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی بی آئی کی کلوزر رپورٹ کو مسترد کرنے اور ان کے خلاف نوٹس لینے کی کوئی بنیاد موجود نہیں تھی۔ چیف جسٹس جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے سابق وزیر اعظم کی اپیل منظور کرتے ہوئے انہیں کلین چٹ دینے والی سی بی آئی کی کلوزر رپورٹ کو قبول کر لیا اور معاملے سے متعلق کارروائی ختم کر دی۔BREAKING | Supreme Court closes criminal proceedings against former PM Dr. Manmohan Singh in the coal block allocation case, allowing his appeal and setting aside the trial court's order rejecting the CBI's closure reports and summoning him to face trial. The Court holds there… pic.twitter.com/sPlDwct7U5— Bar and Bench (@barandbench) July 29, 2026قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کا انتقال دسمبر 2024 میں ہو چکا تھا، اس کے باوجود سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے حکم کے جواز کی جانچ کرنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ اس میں ان کے خلاف کئی منفی تبصرے کیے گئے تھے۔ آنجہانی سابق وزیر اعظم کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل کپل سبل نے کہا کہ منموہن سنگھ کے انتقال کے بعد اگرچہ تکنیکی طور پر یہ اپیل غیر مؤثر ہو گئی تھی، لیکن ٹرائل کورٹ کے تبصروں پر غور کرنا ضروری تھا۔ایڈووکیٹ کپل سبل نے سماعت کے دوران بنچ سے درخواست کی کہ سابق وزیر اعظم کے خلاف کیے گئے تبصرے حذف کیے جائیں۔ اس پر چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ مقدمے کا تصفیہ کیا جا سکتا ہے، جس پر سبل نے جواب دیا کہ اس معاملے میں ٹرائل کورٹ نے نوٹس لیا تھا اور منفی تبصرے کیے تھے، جنہیں حذف کیا جانا چاہیے۔ سی بی آئی کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل آر ایس چیما نے بتایا کہ متعلقہ مقدمات میں بعض دفعات کی آئینی حیثیت سے متعلق مسائل اب بھی زیر التوا ہیں۔ سینئر وکیل ابھشیک منو سنگھوی نے بھی اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ کم از کم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے معاملے میں کیے گئے تبصرے تو حذف کیے جا سکتے ہیں۔The Supreme Court on Wednesday quashed the 2015 order of a Special CBI Court summoning former Prime Minister Dr. Manmohan Singh in a coal block allocation case, holding that the trial court had no justification to reject the Central Bureau of Investigation's (CBI) closure report… pic.twitter.com/hYNDx8s1oq— Live Law (@LiveLawIndia) July 29, 2026بہرحال، سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں درج کیا ہے کہ اپیل کنندہ کے افسوسناک انتقال کے باعث اس اپیل کو غیر مؤثر قرار دے کر نمٹایا جا سکتا تھا، لیکن خصوصی جج کی جانب سے مقدمے کا نوٹس لینے اور اپیل کنندہ کو سمن جاری کرنے کے پہلو پر غور کرنے کے لیے ہم نے سی بی آئی کی جانب سے داخل کی گئی دونوں کلوزر رپورٹس کا جائزہ لیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ’’تحقیقی ایجنسی کی رپورٹ قبول کرنے سے متعلق اس عدالت کے مسلسل طے شدہ اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جج کے پاس سی بی آئی کی کلوزر رپورٹ کو مسترد کرنے اور مقدمے کا نوٹس لینے کی کوئی وجہ موجود نہیں تھی۔‘‘ عدالت نے مزید کہا کہ ’’ہم اپیل منظور کرتے ہیں اور متنازعہ فیصلے کو منسوخ کرتے ہیں۔ نتیجتاً ہم سی بی آئی کی کلوزر رپورٹ قبول کرتے ہیں اور مقدمہ بند کرتے ہیں۔‘‘واضح رہے کہ 2015 میں ٹرائل کورٹ نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو سمن جاری کیا تھا، لیکن دسمبر 2024 میں ان کا انتقال ہو گیا۔ عدالت کی جانب سے سمن منسوخ کیے جانے کے بعد سابق وزیر اعظم اب یو پی اے دور کے سب سے ہائی پروفائل فوجداری مقدمات میں سے ایک میں باضابطہ طور پر بری الذمہ قرار دے دیے گئے ہیں۔