راجستھان ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا کہ اساتذہ کے ذریعہ طلبہ کو ڈسپلن میں رکھنے کے لیے ڈانٹنا خودکشی کے لیے اکسانے کے برابر نہیں مانا جا سکتا۔ عدالت نے 2005 کے بیکانیر طالبہ خودکشی معاملہ میں 2 اساتذہ سمیت 3 ملزمان کے خلاف انڈین پینل کوڈ (آئی پی سی) کی دفعہ 305 کے تحت طے شدہ الزامات کو منسوخ کر دیا۔ جسٹس کلدیپ ماتھور نے روی بھٹناگر سمیت دیگر کی فوجداری نظر ثانی درخواستوں کو منظور کرتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا۔Teacher Reprimanding Student For Irregular Attendance, Poor Academic Performance Not Abetment Of Suicide: Rajasthan High Courthttps://t.co/9SQnV0YS9s— Live Law (@LiveLawIndia) July 28, 2026عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ کسی استاذ کے ذریعہ طالب علم کو باقاعدگی سے اسکول آنے، پڑھائی پر توجہ دینے، کلاس میں ڈسپلن برقرار رکھنے یا خراب کارکردگی پر ڈانٹنے-پھٹکارنے جیسی عام تادیبی کارروائی کو تب تک خودکشی کے لیے اکسانا نہیں مانا جا سکتا، جب تک کہ خودکشی کے لیے اکسانے یا جان بوجھ کر مدد کرنے کا واضح اور ٹھوس ثبوت نہ ہو۔ اسی بنیاد پر ہائی کورٹ نے بیکانیر کے ایڈیشنل سیشن جج نمبر 6 کے ذریعہ 9 فروری 2021 کو الزامات طے کرنے کے حکم کو منسوخ کر دیا۔واضح رہے کہ مذکورہ معاملہ بیکانیر کے ایک اسکول کی 12ویں جماعت کی طالبہ سے متعلق ہے، جس نے 19 اکتوبر 2005 کو پھانسی لگا کر خودکشی کر لی تھی۔ طالبہ نے مبینہ طور پر ایک خودکشی نوٹ چھوڑا تھا، جس میں اسکول کے اساتذہ پر اذیت دینے، بے عزت کرنے اور اسکول سے نکالنے کی کوشش کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ طالبہ باقاعدگی سے کلاسوں میں حاضر نہیں ہوتی تھی اور پڑھائی پر بھی مناسب توجہ نہیں دے رہی تھی۔ اساتذہ نے اسے باقاعدگی سے اسکول آنے، پڑھائی کرنے اور کلاس ٹیسٹ میں شامل ہونے کے لیے سمجھایا تھا۔ ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد ہائی کورٹ نے پایا کہ ملزمان کی جانب سے ایسا کوئی براہ راست یا فعال اقدام نہیں کیا گیا تھا، جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ انہوں نے طالبہ کو خودکشی کے لیے اکسایا تھا۔ اس کیس میں وکلاء مکتیش مہیشوری اور ابھیشیک مہتو نے پیروی کی۔