امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کےخلاف نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا۔امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات لے جانے والے مزید جہازوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں، نئی پابندیوں کے تحت نامزد کمپنیوں اور جہازوں کے امریکا میں موجود تمام اثاثے منجمد ہوں گے۔ایرانی خام تیل چین منتقل کرنے والے متعدد آئل ٹینکرز کو بھی بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں ٹیکس وصول کرنے والے ایرانی نیٹ ورک کےخلاف کارروائی کی گئی۔ ایرانی ادارے تجارتی جہازوں سے میری ٹائم انشورنس کے نام پر رقوم وصول کر رہے تھے۔اعلامیہ کے مطابق پرشین گلف میرین انشورنس کمپنی اور ہرمز سیف میرین سروسز اتھارٹی پرپابندی عائد کی گئی ہے یہ دونوں ادارے پاسداران انقلاب کے فنانشل نیٹ ورک کا حصہ ہیں، ایران پابندیوں سےبچنےکیلئےبٹ کوائن سمیت ڈیجیٹل اثاثوں میں ادائیگیاں وصول کر رہا تھا۔امریکی وزیرخزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ ایران عالمی جہاز رانی کو یرغمال بنا کر پاسداران انقلاب کی مالی معاونت چاہتا ہے، ایران کے شیڈو فلیٹ سےوابستہ 100سےزائد جہازوں پر پابندیاں لگائی جا چکی ہیں اور ایران کے تیل کے شعبے سے وابستہ 8 کمپنیوں پر بھی امریکی پابندیاں عائدکی گئیں۔انہوں نے کہ امریکی شہریوں، اداروں کوایرانی کمپنیوں اورافراد سے مالی لین دین سے روک دیا گیا امریکا ایران کو عالمی تجارت یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دے گا، ایران کی معیشت شدید بحران اور خوفناک مہنگائی کا شکار ہو چکی ہے۔