3 بچوں کا قتل کس طرح کیا گیا؟ باپ کی گواہی نے سب کو رُلا دیا

Wait 5 sec.

میسا چوسٹس : امریکا کے مشہور 3 کمسن بچوں کے قتل کیس میں باپ کی دل دہلا دینے والی گواہی نے عدالت میں موجود حاضرین کو اشکبار کردیا۔امریکی ریاست میساچوسٹس میں تین کمسن بچوں کے قتل کے مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت میں ایسے لمحات آئے جنہوں نے نہ صرف جیوری بلکہ کمرۂ عدالت میں موجود ہر شخص کو غمزدہ کر دیا۔فوکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق بچوں کے والد پیٹرک کلینسی نے عدالت میں اس ہولناک شام کی روداد بیان کی جب وہ معمول کے مطابق گھر لوٹے، لیکن چند لمحوں بعد ان کی پوری زندگی ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔پیٹرک کلینسی نے عدالت کو بتایا کہ 24 جنوری 2023 کو ان کی اہلیہ لنڈسے کلینسی نے انہیں گھر سے باہر جاتے ہوئے راستے میں چند کام نمٹانے کے لیے کہا تھا، وہ ایک میڈیکل اسٹور سے دوا لینے گئے اور پھر راستے میں کھانے کا آرڈر بھی وصول کیا۔اس دوران ان کی اہلیہ سے مختصر فون پر بات ہوئی، جس میں وہ غیر معمولی طور پر خاموش محسوس ہوئیں، پیٹرک نے سوچا کہ شاید وہ بچوں کو نہلا رہی ہوں یا ان کی دیکھ بھال میں مصروف ہوں، اس لیے انہوں نے اس خاموشی کو معمول کی بات سمجھا۔جب وہ تقریباً شام چھ بجے گھر پہنچے تو انہیں سب سے پہلے گھر کی غیر معمولی خاموشی نے چونکا دیا۔ انہوں نے بار بار اپنی اہلیہ اور بچوں کو آوازیں دیں مگر کسی نے جواب نہ دیا۔ انہوں نے تہہ خانے کی طرف بھی آواز لگائی، لیکن وہاں سے بھی مکمل خاموشی تھی۔انہوں نے بتایا کہ پریشانی بڑھنے پر وہ اوپر کی منزل پر گئے، جہاں بچوں کے کمروں کی تلاشی لینے کے بعد وہ اپنے بیڈ روم کے سامنے پہنچے تو دیکھا کمرے کا دروازہ اندر سے بند تھا۔پیٹرک نے عدالت میں بتایا کہ اسی لمحے مجھے ایسا محسوس ہوا کہ کچھ بہت غلط ہو چکا ہے، انہوں نے دوسری چابی نکالی، دروازہ کھولا تو اندر کا منظر ناقابلِ بیان تھا۔کمرے میں ہر طرف خون پھیلا ہوا تھا، فرش خون سے بھرچکا تھا اور کھڑکی پوری طرح کھلی ہوئی تھی۔ یہ منظر دیکھتے ہی وہ فوراً گھر کے پچھلے حصے کی طرف بھاگے، جہاں ان کی اہلیہ زخمی حالت میں کھڑکی کے نیچے پڑی تھیں۔ ان کی کلائیوں پر گہرے زخم تھے اور گردن پر بھی شدید چوٹ کے نشانات موجود تھے۔پیٹرک کے مطابق انہوں نے گھبرا کر اہلیہ سے پوچھا، ’کیا ہوا؟‘ جواب ملا، ’میں نے خودکشی کرنے کی کوشش کی ہے۔’اس کے بعد میرا اگلا سوال تھا کہ ’بچے کہاں ہیں؟‘ لنڈسے نے مختصر جواب دیا، ’وہ تہہ خانے میں ہیں۔‘ حیران کن طور پر انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ بچے زخمی ہیں یا انہیں فوری مدد کی ضرورت ہے۔امدادی ٹیم کے پہنچتے ہی پیٹرک دوڑتے ہوئے تہہ خانے میں گئے، جہاں ان کی زندگی کا سب سے خوفناک منظر ان کا منتظر تھا۔ انہوں نے اپنی 5 سالہ بیٹی کورا کو بے حس و حرکت پایا۔ چند قدم کے فاصلے پر 8 ماہ کا ننھا کالن بھی اسی حالت میں موجود تھا، جبکہ 3 سالہ ڈاسن ایک دوسرے کمرے میں ملا۔پیٹرک نے بتایا کہ اس لمحے انہیں احساس ہوگیا تھا کہ ان کے بچوں کی جان جاچکی ہے لیکن ایک باپ ہونے کے ناطے انہوں نے آخری امید کے ساتھ تینوں کو بچانے کی کوشش کی اور بار بار سی پی آر کرتے رہے، یہاں تک کہ امدادی اہلکاروں نے ذمہ داری سنبھال لی۔سماعت کے دوران پیٹرک کی جانب سے کی گئی ہنگامی 911 کال بھی عدالت میں سنائی گئی، آڈیو چلتے ہی عدالت کا ماحول انتہائی سوگوار ہوگیا۔ بتایا گیا کہ لنڈسے کلینسی خاموشی سے روتی رہیں اور کچھ دیر بعد اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا لیا، جبکہ جیوری نے اس دردناک کال کو خاموشی سے سنا۔مقدمے کے دوران استغاثہ نے ایک اور اہم پہلو بھی عدالت کے سامنے رکھا۔ دفاع کا مؤقف ہے کہ لنڈسے کلینسی مختلف نفسیاتی ادویات کے زیرِ اثر تھیں، پیٹرک کلینسی نے بھی عدالت میں تسلیم کیا کہ ان کی اہلیہ ایک وقت میں عموماً دو یا تین نفسیاتی ادویات ہی لے رہی تھیں۔یہ مقدمہ امریکا کے حالیہ برسوں کے سب سے حساس اور دل دہلا دینے والے مقدمات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ عدالت میں سامنے آنے والی ہر نئی تفصیل اس المناک سانحے کی سنگینی کو مزید نمایاں کر رہی ہے، جبکہ تین معصوم بچوں کی المناک موت نے پورے ملک کو غم اور افسوس میں مبتلا کر رکھا ہے۔واضح رہے کہ امریکی ریاست میساچوسٹس کی رہائشی لنڈسے کلینسی کے خلاف اپنے تین بچوں کے قتل کا ہائی پروفائل مقدمہ اس وقت میساچوسٹس کی پلائی ماؤتھ سپیریئر کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔لنڈسے کلینسی پر الزام ہے کہ انہوں نے 24 جنوری 2023 کو اپنے تین بچوں 5 سالہ کورا، 3 سالہ ڈاسن، اور 8 ماہ کے کیلن کو ورزش کرنے والی رسی سے گلا گھونٹ کر قتل کر دیا تھا۔اس واقعے کے بعد انہوں نے گھر کی دوسری منزل کی کھڑکی سے کود کر خودکشی کی کوشش کی تھی، جس کے نتیجے میں وہ ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ کے باعث مستقل طور پر مفلوج ہوگئیں اور اب وہ وہیل چیئر پر عدالت میں پیش ہوتی ہیں۔