مودی سرکار کے 12 سال بےکار : کاکروچ پارٹی نے حکومت کو کیسے تباہ کیا ؟

Wait 5 sec.

بھارت میں کاکروچ پارٹی کے احتجاجی مظاہروں سے مودی سرکار پر دباؤ میں اچھا خاصا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں پر نئی بحث چھڑ گئی۔پیپر لیک تنازع کے بعد ملک گیر مظاہروں نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کرلی جس کے سبب مودی حکومت دباؤ کا شکار ہوگئی اور طلبہ کے سامنے گھٹنے ٹیکنا پڑے۔اس سے قبل بھی مودی حکومت نے اپنے 12 سالہ دورِ اقتدار میں ایک کے بعد ایک بڑے سیاسی بحرانوں کا سامنا کیا۔ کبھی طلبہ سڑکوں پر نکل آئے، کبھی شاہین باغ میں خواتین نے احتجاج کیا۔کبھی کسان دہلی کی سرحدوں پر ڈٹ گئے اور کبھی نوجوان اگنی پتھ اسکیم کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے۔ ہر بار حکومت دباؤ میں آئی، لیکن یہ تاثر برقرار رہا کہ مودی حکومت آسانی سے پیچھے ہٹنے والی نہیں۔مگر 2026 میں ایک ایسی تحریک سامنے آئی جسے ابتدا میں صرف سوشل میڈیا کا مذاق سمجھا گیا۔ وہ تھی کاکروچ جنتا پارٹی۔ لیکن یہی مذاق چند ہفتوں میں مودی حکومت کے لیے 12 سال کا سب سے غیر متوقع سیاسی چیلنج بن گیا۔ایک پیپر لیک سے شروع ہونے والا احتجاج صرف امتحانات تک محدود نہیں رہا۔ یہ نوجوانوں کے مستقبل، روزگار، بے روزگاری اور حکومتی جوابدہی کی تحریک بن گیا۔36روز تک مسلسل احتجاج کے بعد وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوگئے اور پھر پورے بھارت میں یہ سوال گونجنے لگا کہ کیا پہلی بار نوجوانوں نے مودی حکومت کو اپنی حکمتِ عملی بدلنے پر مجبور کر دیا؟اس سوال کا جواب جاننے کے لیے مودی حکومت کے 12 سالہ دور اقتدار پر نظر ڈالتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ سال 2016 میں یونیورسٹیوں سے اٹھنے والی آواز نے مودی حکومت کے ابتدائی برسوں میں جے این یو اور حیدرآباد یونیورسٹی کو طلبہ سیاست کا مرکز بنا دیا۔آزادیٔ اظہار، یونیورسٹی خودمختاری اور اختلافِ رائے پر بحث نے پہلی بار نوجوانوں اور حکومت کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔2019میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے ) ملک گیر احتجاج کی وجہ بنا۔ جامعہ، علی گڑھ اور پھر شاہین باغ، جہاں خواتین مہینوں تک دھرنے پر بیٹھی رہیں۔ یہ احتجاج بھی مودی حکومت کے خلاف عوامی مزاحمت کی علامت بن گیا۔اس کے علاوہ سال 2020 اور 2021 میں زرعی قوانین کے خلاف لاکھوں کسان دہلی کی سرحدوں پر جمع ہوئے۔ تقریباً ایک سال جاری رہنے والے احتجاج کے بعد حکومت نے تینوں زرعی قوانین واپس لے لیے۔اسے مودی حکومت کے سب سے بڑے سیاسی یوٹرنز میں شمار کیا جاتا ہے۔ 2022 میں اگنی پتھ اسکیم کے خلاف نوجوان سڑکوں پر نکل آئے۔ متعدد ریاستوں میں پُرتشدد احتجاج ہوئے۔حکومت نے اصلاحات کی بات کی، لیکن نوجوانوں کا غصہ کم نہ ہو سکا۔ 2023میں معروف بھارتی پہلوان جنتر منتر پہنچے۔ جنسی ہراسانی کے الزامات کے خلاف یہ احتجاج کھیل کے میدان سے نکل کر ادارہ جاتی احتساب اور خواتین کے تحفظ کی علامت بن گیا۔پھر آیا 2026سال 2026میں نیٹ امتحان کے پیپر لیک نے لاکھوں نوجوانوں کا اعتماد ہلا کر رکھ دیا۔ طلبہ کا سوال تھا کہ اگر امتحان ہی محفوظ نہیں تو مستقبل کیسے محفوظ ہوگا؟اسی دوران سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے منسوب کاکروچ والے تبصرے نے سوشل میڈیا پر طنز کو جنم دیا اور اسی طنز سے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ وجود میں آئی۔جو پہلے سوشل میڈیا پر محض ایک میم تھی، پھر احتجاج بنی اور بعد میں ایک قومی تحریک کی شکل اختیار کر گئی۔ دہلی کے جنتر منتر سے شروع ہونے والا احتجاج چند ہی دنوں میں بھارت کے کئی شہروں تک پھیل گیا۔پولیس نے لاٹھی چارج کیا، آنسو گیس استعمال کی اور پارلیمنٹ مارچ روک دیا۔ سماجی کارکن سونم وانگچُک نے بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے بھوک ہڑتال شروع کی۔ بعد ازاں انہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا لیکن احتجاج مزید مضبوط ہوتا گیا۔ملک بھر سے لوگ آن لائن فوڈ ڈلیوری ایپس کے ذریعے مظاہرین تک کھانا پہنچانے لگے، حکومت نے ابتدا میں احتجاج کو اپوزیشن اور ملک دشمن عناصر سے جوڑا لیکن جیسے جیسے دباؤ بڑھا، وزیرِ اعظم نریندر مودی کو بھی امتحانی نظام پر بیان دینا پڑا۔اور آخرکار وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ بھی دے دیا، اگرچہ مظاہرین کے تمام مطالبات پورے نہیں ہوئے، لیکن ان کا سب سے بڑا مطالبہ تسلیم کیا جانا اس تحریک کی پہلی بڑی کامیابی قرار دیا گیا۔مودی سرکار کے12سالوں، میں 6 مختلف احتجاج کیے گئے ہر احتجاج کا موضوع الگ تھا۔ کہیں آزادی اظہار، کہیں شہریت، کہیں کسان، کہیں فوجی بھرتی، کہیں خواتین کا تحفظ، اور اب نوجوانوں کا مستقبل۔2026کی اس تحریک نے ایک نئی حقیقت سامنے رکھ دی۔ یہ نسل صرف سوشل میڈیا پر ٹرینڈ نہیں بناتی۔ یہ سڑکوں پر بھی نکلتی ہے، اپنی آواز بھی بلند کرتی ہے اور نتائج حاصل کرنے کی کوشش بھی کرتی ہے۔یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ یہ تحریک بھارتی سیاست کا رخ بدل دے گی لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ 12 سال میں پہلی بار ایک غیر روایتی، نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی تحریک نے مودی حکومت کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔اور شاید سوال صرف ایک وزیر کے استعفے کا نہیں، بلکہ ایک نئی نسل کا ہے، جو اب صرف ووٹر نہیں بلکہ بھارت کی آئندہ سیاست میں ایک فیصلہ کن طاقت بننے کی کوشش کر رہی ہے۔